تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 435
تاریخ احمدیت 435 جلد 21 1973-74 ء میں جو فسادات ختم نبوت والوں کی طرف سے بر پا کیے گئے ان میں اس بیت الاحمدیہ کا سارا سامان جو جائے تعمیر پر موجود تھا ( سریہ، سیمنٹ، اینٹیں وغیرہ ) وہ سب اردگرد سے لوگ آکر لوٹ کر لے گئے اور درخت جو اس جگہ اُگے ہوئے تھے سب کاٹ کر لے گئے۔سارا دن اس غرض کیلئے انکے رہڑے چلتے رہے۔1974 ء میں ہی ہم نے پھر اسکی دوبارہ تعمیر شروع کر دی جو 1975ء میں لکھوکھا روپیہ کی لاگت سے پایہ تکمیل کو پہنچی۔اس تعمیر کے انچارج مکرم ڈاکٹر عبداللطیف صاحب مرحوم تھے۔جنہوں نے اپنے پاس سے بھی اس کیلئے ایک لاکھ روپے سے زائد خرچ کیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء۔انکے صاحبزادے مکرم ڈاکٹر عبدالشکور صاحب بھی انکے ساتھ اس کام میں شریک رہے ویسے اسکی امداد میں سرگودھا کی ساری جماعت شامل تھی۔اللہ تعالیٰ سب بھائیوں کو جزائے خیر دے حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسمیں از راہ کرم توجہ اور مدد فرمائی۔پاکستان میں عیسائیت کی سرگرمیاں اور جماعت احمد یہ مرزا عبدالحق امیر جماعت احمد یہ سرگودھا 05-03-1987 قیام پاکستان کے بعد جب متعصب اور فرقہ پرست علماء نے ملک میں منافرت کی آگ بھڑکانا شروع کی تو عیسائی مشنوں کا زور بڑھ گیا اور سینکڑوں مسلمان عیسائیت کی آغوش میں چلے گئے اور سرکاری مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق 1950ء سے 1961 ء تک مسیحی آباد میں 34۔9 فیصد کے تناسب سے اضافہ ہو گیا اس افسوناک صورت حال کے پیش نظر جماعت احمدیہ نے اپنے محدود ذرائع اور مشکلات کے با وجود عیسائیت کی روک تھام کیلئے اپنی سرگرمیاں پہلے سے تیز تر کر دیں۔وقف جدید کے معلمین ، مربیان سلسلہ نے رد عیسائیت کی طرف خصوصی توجہ دی مرکزی اداره نشر واشاعت کی طرف سے اس ضمن میں کثرت سے لٹریچر شائع کیا گیا۔ادارہ کے بعض ٹریکٹ اسلامک ریسرچ سینٹرلاہور کے ذریعہ چھپے اور ملک میں تقسیم ہوئے۔اس ادارہ نے 62-1961ء میں حضرت مسیح موعود کی کتاب ”سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب اور چشمہ مسیحی“ کے علاوہ رد عیسائیت میں جوٹریکٹ چھپوائے ان میں سے بعض کا نام یہ ہے۔ندائے حق ( حضرت میر محمد اسحاق صاحب ) مباحثہ مصر ( مولانا ابوالعطاء صاحب)