تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 424
تاریخ احمدیت 424 جلد 21 بعض لوگ بولے کہ اتنی لمبی مدت کی کیا ضرورت ہے۔ایک اور صاحب بولے ایک سال بہت ہے۔ایک مہینہ میں اس کا نتیجہ ظاہر ہونا چاہیے۔خدا کی قدرت !! مباہلہ کے چند دنوں بعد شہر کے حالات نے ریکا یک ایسا پلٹا کھایا کہ ایک مسلمان ڈرائیور کی ایک اخلاق سوز حرکت کی وجہ سے ہندو مسلم کشیدگی نے دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر لیا۔یہانتک کہ سخت فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔اسی دوران مباہلہ کے ٹھیک ایک ماہ بعد 25 اپریل 1962ء کو یہ افواہ پورے زوروں سے گرم ہو گئی کہ اس دن سورو کے مسلمانوں پر حملہ کر کے انہیں ختم کر دیا جائے گا۔یہ افواہ بجلی کی طرح گری جس نے ہر طرف دہشت پھیلا دی سب آہ و بکا کرنے لگے اور سورو سے بھاگ بھاگ کر بھدرک اور بالیسر میں پناہ لینے لگے۔اس واقعہ نے سورو کے مخالفین احمدیت کا سارا غرور توڑ دیا اور اُن کی ساری عزت و عظمت خاک میں مل گئی اور خدا کی یہ بات ایک بار پھر پوری آب و تاب سے پوری ہوئی کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا سے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔59 مولا نانیاز صاحب فتحپوری کا حقیقت افروز بیان راولپنڈی کے ایک غیراحمدی دوست نے مولانا نیاز صاحب فتچوری کو لکھا کہ معلوم ہوا ہے کہ جماعت احمد یہ ربوہ کی طرف سے انہیں ساڑھے پانچ ہزار روپے دیئے گئے ہیں۔مولانا نیاز فتحپوری نے اپنے موقر ماہنامہ نگارلکھنو ماہ مئی 1962ء میں اس الزام کی سختی سے تردید کی اور لکھا:۔ربوہ سے ساڑھے پانچ ہزار کی امدادی رقم ملنے کی جو خبر آپ نے سنی ہے بالکل غلط ہے اور مجھے حیرت ہے کہ آپ نے جو میری افتاد طبع سے پوری طرح واقف ہیں کیونکر اس کا یقین کر لیا کہ جو کچھ میں احمدیت کی موافقت میں لکھ رہا ہوں۔وہ نتیجہ ہے اس امداد کا۔آج تک میں ربوہ نہیں گیا اور نہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے مل سکا۔لیکن ارادہ ضرور ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہاں احمدی جماعت کی تنظیم کا مطالعہ کروں گو میں قادیان جا کر وہاں کی تنظیم کا بڑا گہرا اثر دل پر لے کر آیا ہوں اور ربوہ میں بھی یقینا وہی ہوگا جو قادیان میں دیکھ چکا ہوں بہر حال آپ نے جو کچھ سنا ہے وہ بالکل غلط ہے اور آپ جانتے ہیں کہ جس حد تک میرے ضمیر کا تعلق ہے وہ کسی قیمت پر نہیں خریدا جاسکتا۔پچھلے دوسال کے اندر بے شک میں نے میرزاغلام احمد صاحب اور ان کی تحریک کو بہت سراہا ہے لیکن محض بر بنائے حقیقت وصداقت و آزادی ضمیر مجھے معلوم تھا کہ سارا زمانہ احمدی جماعت اور مرزا غلام احمد