تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 414
تاریخ احمدیت 414 جلد 21 سید عبدالسلام صاحب نے بحیثیت کلرک شعبہ کو سنبھالا بعد ازاں پہلے مولانا محمد اسمعیل صاحب دیا لگڑھی مربی سلسلہ (مئی 1974 ء تا 15 اگست 1982 ء ) پھر شیخ نور احمد صاحب سابق مجاہد بلاد عربیه (16 اگست 1982ء تا 19 اگست 1983ء) انچارج صیغہ کے فرائض انجام دیتے رہے۔20 اگست 1983ء کومولوی منیرالدین احمد صاحب سابق مبلغ افریقہ سویڈن ( حال جرمنی ) اس اہم شعبہ کے نگران مقرر ہوئے۔مباہلہ سورو ( اڑیسہ ) اور اس کے حیرت انگیز نتائج بھارت کے ضلع بالیسر صوبہ اڑیسہ میں بھدرک کے قریب سورونامی ایک قصبہ ہے جہاں 25 مارچ 1962 ء بروز منگل علاقہ کے مشہور بریلوی عالم مولوی حبیب الرحمن صاحب دھام نگری اپنے دو شاگردوں مولوی عبد القدوس امام مسجد شنکر پور بھدرک اور مولوی شوکت علی صاحب ہیڈ مولوی مدرسہ نعمانیہ بھدرک مدرسہ کا ظمیہ کے پندرہ بیس طلباء کولیکر پہنچے اور احمد یوں کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔احمدیوں نے یہ چیلنج قبول کر لیا دونوں فریق ڈاک بنگلہ کے سامنے والے کھلے میدان میں جمع ہوئے۔غیر احمدیوں کی طرف سے 22 افراد شامل ہوئے اور مولوی عبدالقدوس صاحب نے فہرست پر دستخط کیے اور ان اشخاص کے ساتھ قبلہ روکھڑے ہو کر موکد بعذاب قسم کھائی کہ :- ”ہم بحلف کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی سچا نبی نہیں ہے تو ہم پر عام عذاب شدید ایک سال کے اندر نازل ہو۔اس پر سب نے آمین کہی۔دعائے مباہلہ کا رقت انگیز منظر دوسری طرف انہیں احمدیوں نے مباہلہ میں شرکت کی جن کے اسماء گرامی یہ ہیں :۔مولانا بشیر احمد صاحب مبلغ سلسلہ احمدیہ، مولوی سید محمدمحسن صاحب ( سونگھڑہ ) ، مولوی سید غلام مهدی صاحب مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ (بھدرک)، مولوی محمد یونس صاحب (سورو)، مکرم ہارون الرشید صاحب ( نائب صدر جماعت احمدیہ بھدرک) عبدالرب صاحب بی اے (بھدرک) محمد سلیم صاحب (بھدرک) صادق علی صاحب ( بھدرک ) محمد علی شاہ صاحب (بھدرک)، سید محمد زکریا صاحب صدر جماعت احمدیہ ( بھدرک) گل محمد صاحب ( بھدرک) شیخ غلام الدین صاحب ( بھدرک ) شیر علی صاحب (سورو)، عبدالستار صاحب (سورو)، عبدالحکیم صاحب ( بھدرک)، شیخ غلام بادی صاحب (بھدرک)، عبدالنور صاحب ( بھدرک)، شیخ عمران صاحب ( بھدرک) شیخ قمرالدین صاحب ( بھدرک ) مولوی سید محمد محسن صاحب معلم وقف جدید نے دستخط کیے۔بعد ازاں جملہ احمدی مباہلین رو بقبلہ