تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 404
تاریخ احمدیت 404 جلد 21 اسی طرح ہم بھی اللہ تعالیٰ کے خزانچی ہیں۔اپنی ضروریات سے جس قد ر روپیہ بچے اسے فی سبیل اللہ خرچ کرنا چاہیے۔یہ بھی فرماتے کہ اس دنیا میں ہماری مثال ایک مسافر کی سی ہے۔یہ دنیا ہمارا اصل گھر نہیں اس لئے اگر سفر میں تکلیف ہوتو کیا حرج ہے؟ یہ بھی فرماتے کہ ایک مجاہد کا درجہ ہزار عابد سے زیادہ ہوتا ہے۔“ 66 ”آپ نے اپنے شدید جذ بہ تبلیغ کی وجہ سے بچپن میں ہی مجھے اپنی جملہ گجراتی زبان کی تصانیف پڑھا دیں تا کہ مجھے اُن سے تبلیغ میں مدد ملے۔حضرت سیٹھ صاحب کی مثال اور عظیم شخصیت جماعت احمدیہ کے علاوہ دوسرے متدین حلقوں میں بھی خاص احترام کی نظر سے دیکھی جاتی تھی اور وہ آپ کی بزرگی ، تو کل، صداقت شعاری اور ولولہ تبلیغ اسلام سے از حد متاثر تھے۔اس حقیقت کا اندازہ جناب سید غلام دستگیر صاحب بی کام ایف سی (بانی و مالک ایس جی دستگیر اینڈ کمپنی چارٹر ڈا کا ؤنٹس) کے ایک بیان سے ہوتا ہے۔جناب سید صاحب حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے گہرے عقیدتمند ہیں۔کاروباری حساب کتاب کے سلسلہ میں ان کا حضرت سیٹھ صاحب سے تمیں سال تک قریبی رابطہ رہا اور آپ کی کتاب زندگی کا گہرا اور تنقیدی نظر سے مطالعہ کرنے اور جائزہ لینے کا موقعہ ملا۔ذیل میں آپ کے بیان کا آخری حصہ درج کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں:- آپ کی زندگی کا مقصد وحید عبادت، خدمت دین اور تبلیغ تھا اور شب و روز آپ انہی امور کے افکار میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے۔آپ انہی امور کے لئے باوجود پیرانہ سالی کے،ضعف اور علالت کے، صبح ہی اپنے دفتر میں آجاتے تھے آپ احباب سے نہایت آہستگی سے کلام کرتے تھے۔میں نے بھی آپ کو غصہ میں آتے نہیں دیکھا آپ کی درازی عمر کا یہ راز تھا کہ آپ احباب کے لئے دعائیں کرتے تھے اور خدمت قوم میں مشغول رہتے تھے۔آپ کی زندگی آپ کے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے وقف تھی۔آپ اپنے معتقدات کے پکے تھے۔میں نے قریباً ایک تہائی صدی تک آپ کو نہایت قریب سے دیکھا۔میں نے اپنی ساٹھ سالہ عمر میں بہت سی دنیا دیکھی۔تمام دنیا کے حالات نیز آپ کے حالات کو گہری اور تنقیدی نظر سے دیکھا۔آپ کے مبارک چہرہ کونورالہی سے منور پایا۔میں نے آپ جیسی کوئی اور عظیم اور عدیم المثال شخصیت نہیں دیکھ پائی۔آپ حقیقی معنوں میں ولی اللہ تھے۔