تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 403 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 403

تاریخ احمدیت 403 جلد 21 1953 ء میں جب حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب قید کر لئے گئے تو آپ نے فرش پر سونا شروع کر دیا۔تکیہ بھی نہیں لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ میرے پیارے تکلیف میں ہیں یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں بستر پر سوؤں۔ان مقدس بزرگوں کی رہائی کی خبر آنے تک آپ کا یہی معمول رہا۔ایک بار آپ نے بوجہ ضعیفی سیٹھ یوسف احمد الہ دین صاحب سے حضرت مصلح موعود کے فرزند کی خدمت میں خط لکھوایا۔انہوں نے مکتوب الیہ کے لئے صرف مکرم و محترم کے الفاظ کافی سمجھے مگر آپ نے فرمایا کہ حضرت کا لفظ کیوں نہیں لکھا ؟ چنانچہ یہ لفظ لکھوایا اور پھر دستخط ثبت کئے۔آپ کو مرکز احمدیت قادیان سے غیر معمولی محبت تھی۔ہر جلسہ پر تشریف لے جاتے آخری عمر میں آپ کی مالی حالت پہلے جیسے نہ رہی تھی اس لئے آپ فرسٹ یا سیکنڈ کی بجائے تھرڈ کلاس میں قادیان کا سفر کرتے اور مرکز کے روحانی فوائد کی خاطر تمام تکالیف برداشت کرنے کو باعث سعادت سمجھتے تھے۔آپ کے دل میں بزرگان سلسلہ اور مبلغین جماعت کا بہت احترام تھا۔آپ بنی نوع انسان کے بچے ہمدرد تھے اور بلاتمیز امیر وغریب ہر ایک سے یکساں محبت کا سلوک فرماتے تھے۔مہمان نوازی، غربا پروری اور یتامیٰ کی پرورش آپ کے خاص اوصاف میں سے تھے۔آپ کی عادات سادہ تھیں۔غذا سادہ تھی اور لباس بھی سادہ اور اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتے تھے۔گھر کے اخراجات کے لئے آپ نے ایک مخصوص رقم ماہوار مقرر کی ہوئی تھی اس طرح کفایت کر کے دینی اور خیراتی کاموں میں روپیہ صرف کرتے تھے۔آپ کی دلی خواہش تھی کہ خدمت دین کا بے پناہ جذ بہ آپ کی نسل میں ہمیشہ قائم رہے اسی رنگ میں آپ نے اپنی اولاد کی تربیت فرمائی کہ وہ سلسلہ کے لئے مفید وجود بن سکیں۔آپ کے پوتے ڈاکٹر حافظ صالح محمد الہ دین صاحب فرماتے ہیں کہ بعد نماز فجر آپ ہم سے ترجمہ قرآن سنتے تھے۔میں نے جب حفظ قرآن مجید مکمل کر لیا تو جس محبت و شفقت سے آپ نے اس عاجز سے معانقہ کیا اور پیار کیا وہ بیان سے باہر ہے اور اس خوشی میں آپ نے مجھے سو روپیہ بطور تحفہ عطا کیا۔“ آپ اپنے بے پناہ جذبہ خدمت دین کی وجہ سے یہ جذ بہ اپنی نسل میں بھی قائم رکھنا چاہتے تھے آپ بچپن میں مجھے کئی طرزوں سے نصیحت فرماتے مثلاً یہ کہ ہماری مثال ایک خزانچی کی سی ہے۔سرکاری خزانچی کے پاس بے شک ڈھیروں ڈھیر مال آتا ہے لیکن وہ اس کا مالک نہیں ہوتا اور وہ ان اموال کو صرف سرکاری کاموں کے لئے صرف کرتا ہے۔