تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 401
تاریخ احمدیت 401 جلد 21 تھا فرمایا کرتے تھے کہ میرے پاس فرشتے مختلف لباسوں میں آتے ہیں۔آپ پوری عمر تقویٰ کی باریک راہوں پر گامزن رہے اور توکل کا بے مثال نمونہ دکھا یا تقسیم ملک کے بعد آپ کی الہ دین بون فیکٹری“ پر تین لاکھ روپیہ کا ٹیکس عائد ہوا۔ایک لاکھ اسی ہزار روپے آپ نے پہلے ادا کیا اور بقیہ رقم مقطوں سے ادا کی جبکہ ٹیکس کا معاملہ سرکاری طور پر زیر کارروائی تھا اور یقین ہو چکا تھا کہ بھاری ٹیکس لگے گا۔آپ کو مشورہ دیا گیا کہ آپ اپنادیوالیہ نکال دیں اس طرح آپ کو بہت کم رقم ادا کرنی پڑے گی۔آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کچھ سرمایہ موجود ہے اور میر امکان بھی۔ایسی صورت میں دیوالیہ کیونکر ہو جاؤں یہ خالص دھو کہ ہوگا۔پھر مشورہ دیا گیا کہ تاجروں کی طرز پر از سرنو حساب تیار کرا کے پیش کر دیں تو ٹیکس کی مقدار میں بہت کمی آسکتی ہے۔مگر آپ نے اس تجویز کو بھی پائے استحقار سے ٹھکرادیا اور فرمایا۔یہ تو جھوٹ ہے لوگ کہیں گے کہ یہ دنیا بھر میں تبلیغ کا ڈھنڈورہ پیٹتا اور جھوٹ سے لوگوں کو منع کرتا تھا لیکن روپیہ بچانے کی خاطر خود اُس نے جھوٹ کی غلاظت پر منہ مارا میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا اس میں اسلام کی بدنامی ہے۔میں اصل حساب کے مطابق ہی انکم ٹیکس ادا کروں گا۔آپ کا یہ مقدمہ ایک ہندو انکم ٹیکس آفیسر مسٹرشیٹی (Shetti) کے پاس زیر سماعت تھا موصوف آپ کے حسابات دیکھ کر بہت متاثر ہوئے کہ دنیا دار تاجر حسابات میں سفر خرچ، عملہ سٹیشنری وغیرہ سب کچھ بڑھا چڑھا کر درج کرتے ہیں تا کہ خالص منافع کی مقدار جس قدر ممکن ہو کم ہو جائے لیکن یہ عجیب شخص ہیں کہ عملہ میں صرف ایک شخص کی تنخواہ درج ہے اخراجات بے حد کم لکھے ہیں اور خالص منافع کی مقدار بہت زیادہ ہے طرفہ تر یہ کہ آپ آمد کا کثیر حصہ فی سبیل اللہ خرچ کر دیتے تھے مگر چونکہ خیراتی اور مذہبی اخراجات کو انکم ٹیکس کی خاطر منہا کرنے کا جواز ملکی قانون میں نہیں تھا اس لئے افسر ایسی چھوٹ نہ دے سکے اور بھاری ٹیکس ادا کرنے سے آپ کا کاروبارختم ہو گیا جسے آپ نے رضائے الہی کی خاطر بانشراح قبول فرمایا۔بشیر الدین الہ دین صاحب نے (جو 1949 ء تا1959ء آپ کے حسابات کا کام کرتے رہے) آپ سے دریافت کیا کہ آپ پر جو انکم ٹیکس کا بوجھ پڑنے والا ہے کیا آپ کو اس کا فکر ہے فرمایا مجھے اس کا کوئی فکر نہیں۔جب اس ٹیکس کی وجہ سے آپ کے کاروبار کی حالت بہت خراب ہوگئی تو آپ نے دوسال کے لئے اسے ٹھیکہ پر دے دیا۔کسی نے دکن سے اس خستہ حالی اور بے سروسامانی کے بارے میں حضرت مصلح موعود کی خدمت میں تحریر کر دیا۔آپ کو پتہ چلا تو اس اطلاع دہی کو بہت ناپسند فرمایا۔حضور نے مرکز قادیان کو ہدایت فرمائی کہ آپ کو پچاس ہزار روپیہ بھجوایا جائے لیکن ابھی ہیں ہزار روپیہ ہی آیا تھا کہ آپ نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ اب مزید روپیہ کی ضرورت نہیں اور اسوقت تک شدید بے چین رہے جب تک کہ کاروبار کی فروختگی کے ذریعہ یہ میں ہزار روپیہ واپس نہیں کر دیا۔ایسی مخدوش مالی حالت کے دوران جو نہی