تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 400
تاریخ احمدیت وو 400 " بے شک سیٹھ صاحب کو ان کی نمایاں خدمات کی وجہ سے اُن کی وفات پر ( خدا اُن کی زندگی کولمبا کرے ) صحابہ کے قطعہ میں دفن کیا جائے۔قابل رشک اخلاص اور مثالی شمائل 166 28 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا:۔سیٹھ صاحب مرحوم کا نام نامی جماعت میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔انہوں نے غالباً خلافت ثانیہ کے ابتداء میں اسمعیلیہ فرقہ سے نکل کر احمدیت کو قبول کیا تھا اور پھر ایمان وا خلاص میں ایسی جلد جلد ترقی کی اور قربانی اور خدمت دین کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا کہ بہت سے پہلے آنے والے لوگوں سے آگے نکل گئے۔یہی وہ مبارک طبقہ ہے جسے قرآن مجید نے سابقون کے اعزازی نام سے یاد کیا ہے یعنی وہ بعد میں آتا ہے مگر دین کے میدان میں اپنی تیز رفتاری سے پہلوں سے آگے نکل جاتا ہے۔حضرت سیٹھ صاحب نے غیر معمولی مالی قربانی کے علاوہ اسلام اور احمدیت کی خدمت میں اتنا وسیع لٹریچر شائع کیا کہ اُن کے تبلیغی ولولہ کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔گویا ایک مقدس جنون تھا جو انہیں ہر روز آگے ہی آگے بڑھاتا چلا جاتا تھا اور اُن کا یہ دینی جذ بہ آخر تک ( غالباً اسی سال سے اوپر عمر پا کر فوت ہوئے) یکساں قائم رہا۔بلکہ ترقی کرتا گیا اور ذاتی نیکی اور عبادت میں بھی اُن کا مقام حقیقتہ مثالی تھا۔اللہ تعالیٰ حضرت سیٹھ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور بہترین نعماء سے نوازے اور انکی اولاد کا دین و دنیا میں حافظ و ناصر ہو اور جماعت میں بھی اُن کے مقدس ورثہ کو ہمیشہ جاری اور ساری رکھے آمین یا رب العالمین وہ یقیناً اُس طبقہ میں سے تھے جن کے متعلق قرآن فرماتا ہے کہ منهم من قضى نحبہ اور منهم من ينتظر والے طبقہ کا خدا حافظ ہے۔اے خدا بر تربت او بارش رحمت بیار داخلش کن از کمال فضل در بیت النعیم عظیم الشان جماعتی خدمات 29 جلد 21 حضرت 10 سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب نہایت درجہ عابد وزاہد بزرگ تھے اور پابند صوم وصلوٰۃ ہونے کے علاوہ تہجد ، اشراق، چاشت اور دیگر نوافل خاص التزام سے پڑھتے تھے اور ذکر الہی کا بے حد شغف