تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 399
تاریخ احمدیت اٹھانے سے صاف انکار کر دیا۔66 399 جلد 21 ربوہ کا پہلا جلسہ سالانہ 15 ، 16 ، 17 اپریل 1949ء کو منعقد ہوا۔اُن ایام میں دہلی کے حالات سخت محذوش اور کشیدہ تھے۔بایں ہمہ آپ نے سیٹھ یوسف احمد الہ دین صاحب کی معیت میں پاکستان کا سفر اختیار فرمایا اور اس مبارک اجتماع میں شرکت فرمائی۔1953 ء میں آپ نے ” خدا تعالیٰ کا عظیم الشان نشان“ کے نام سے گجراتی میں اپنی سوانح حیات شائع فرمائی۔ماہ فروری 1955ء میں حضرت مصلح موعود نے آپ کو حیدر آباد دکن اور سکندر آباد کا امیر نامزد فرمایا۔آپ تا وفات اس اہم عہدہ پر فائز رہے اور اپنے فرائض کمال مستعدی ، فراست، تقوی شعاری اور دعا اور موہ فراست سے بجالاتے رہے۔مارچ 1955ء میں حضور نے سیٹھ صاحب کو ایک مفصل مکتوب ارسال فرمایا جس میں سفر یورپ پر روانگی کی اطلاع دی اور لکھا:۔ان دنوں آپ کا خاندان بھی بہت دعاؤں کا محتاج ہے۔انشاء اللہ سفر میں آپ کے خاندان کو دعاؤں میں یاد رکھوں گا۔آپ میری زندگی کے سفر کے ساتھی ہیں پھر میں آپ کو کس طرح بھول سکتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ نے سیٹھ عبدالرحمن اللہ رکھا مدراسی کی شکل میں اپنے فرشتے بھجوائے تھے میرے پاس اللہ تعالیٰ نے 26 66 آپ کی شکل میں فرشتے بھجوائے ہیں۔“ نیز فرمایا:- 27 ”ہندوستان کی جماعت کا خیال رکھیں آپ کی طبیعت میں جو شرم وحیا ہے اس کی وجہ سے میں آپ پر کام کی ذمہ داری نہیں ڈالتا مگر وقت آ گیا ہے کہ آپ آگے آ کر جماعت کو مضبوط کریں اور مرکز قادیان کو مضبوط کرنے کی سعی فرمائیں۔جلسه سالا نہ قادیان 1956ء اور جلسہ سالانہ ربوہ 1957 ء حضرت سیٹھ صاحب کی زندگی کے آخری جلسے تھے جن میں آپ نے شرکت فرمائی جس کے بعد آپ چار سال تک بقید حیات رہے اور 26 فروری 1962 ء کو انتقال کیا۔آپ کی نعش مبارک سکندر آباد کے آبائی قبرستان میں امائنا دفن کی گئی۔پھر آپ کا تابوت 21 دسمبر 1962ء کو بہشتی مقبرہ قادیان کے قطعہ خاص میں رفقاء نمبر 4 میں سپرد خاک کر دیا گیا۔دراصل حضرت مصلح موعود نے آپ کی زندگی میں ہی یہ فیصلہ فرما دیا تھا کہ :۔