تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 396 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 396

تاریخ احمدیت 396 جلد 21 صاحب کو ولایت بھجوایا۔اُن کے واپس آنے پر یہی خواہش ظاہر کی کہ دین کی خدمت کرے۔چھوٹے لڑکے کے متعلق بھی اُن کی یہی خواہش ہے کہ دین کا خادم رہے۔وہ مجھ سے جب بھی اپنی اولاد کے لئے دعا کی خواہش کرتے ہیں تو یہی کہتے ہیں کہ دُعا کریں میری اولاد دین کی خادم ہو۔یہی شادی جس کا میں خطبہ پڑھ رہا ہوں اس میں بھی یہی خواہش کام کر رہی ہے سیٹھ صاحب خود خدا کے فضل سے زیادہ آسودہ حال ہیں۔لڑکا ایسا نہیں ہے مگر سیٹھ صاحب کی خواہش ہے کہ چونکہ اس خاندان میں احمدیت نہیں اس لئے جب لڑکی جائے گی اور انہیں تبلیغ کرے گی تو وہ لوگ بھی احمدی ہو جائیں گے۔سیٹھ صاحب کے چھوٹے بھائی خان بہادر احمد صاحب چھوٹے رہ گئے تھے۔جب ان کے والد فوت ہوئے سیٹھ عبداللہ بھائی کی یہ بھی نیکی ہے کہ انہوں نے چھوٹے بھائی کو پالا اور اپنی کوئی الگ جائیداد نہ بنائی بلکہ بھائی کے ساتھ مشترکہ ہی رکھی۔وہ سیٹھ صاحب کے منجھلے بھائی ہیں۔اپنے کاروبار میں بہت ہوشیار ہیں اتنے ہوشیار کہ سیٹھ صاحب کو بھی پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔وہ بہت زیادہ کما سکتے ہیں۔کماتے رہے ہیں اور کماتے ہیں۔مگر با وجوداس کے کہ وہ مالی لحاظ سے، رسوخ کے لحاظ سے اور پبلک کے ساتھ تعلقات کے لحاظ سے بہت زیادہ بڑھے ہوئے ہیں۔ان پر سیٹھ صاحب کے سلوک کا ایسا اثر ہے کہ جس طرح بہت نیک بیٹا اپنے باپ کا ادب کرتا ہے اسی طرح وہ سیٹھ صاحب کا ادب کرتے ہیں۔ان کے متعلق بھی سیٹھ صاحب کی یہی خواہش ہوتی ہے دعا کریں احمدی ہو جائیں۔میں جب حیدر آباد گیا تو جس وقت دونوں بھائی میرے سامنے اکٹھے ہوئے انہیں سیٹھ صاحب یہی کہتے۔احمد بھائی ! بہت دنیا کمائی۔اب احمدی ہو جاؤ۔تو تبلیغ کا اُن میں وہ جوش پایا جاتا ہے جو بعض ان مبلغین میں بھی نظر نہیں آتا جنھوں نے خدمت دین کے لئے زندگیاں وقف کی ہیں۔میں اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے یہ بھی ایک احسان سمجھتا ہوں کہ تجارت کرنے والے طبقہ میں سے بھی احمدی ہوں جو اپنے طبقہ میں تبلیغ کر سکیں۔“ پھر حضرت سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراسی کے اخلاص اور مالی قربانیوں کا ذکر کر کے فرمایا کہ :- ان کے بعد سلسلہ میں بڑے تاجروں میں سے کوئی نہ رہا تھا اور خیال آیا کرتا تھا کہ تاجروں میں سے کوئی احمدی ہوتا کہ اس طبقہ میں تبلیغ کی جاسکے۔پنجاب میں تو کوئی بڑا