تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 375 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 375

تاریخ احمدیت 375 جلد 21 کانفرنس کے آخری روز وزیر رسل و رسائل اور فری ٹاؤن کے میئر نے بھی خطاب کیا۔وزیر رسل و رسائل الحاج کانڈے بورے نے جماعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ :- اسلام کا طرہ امتیاز ہمدردی خلق کی تعلیم ہے اور یہی لاثانی جو ہر لے کر احمدیت اس ملک میں طلوع ہوئی ہے۔احمد یہ جماعت سچائی کی علمبر دار ہے اور یہی چیز مبلغین احمدیت سیرالیون میں لے کر آئے ہیں۔تھوڑے سے عرصہ میں جماعت احمدیہ نے بڑے کارنامے کر دکھائے ہیں۔تعلیم کے لحاظ سے بہت سے پرائمری سکولوں کے علاوہ سیکنڈری سکول بھی قائم ہو چکا ہے۔لوگوں کی جسمانی خدمت کے لئے احمدی ڈاکٹر تشریف لا رہے ہیں اور لوگوں کی روحانی اصلاح کے لئے مبلغین ملک کے تقریبا ہر حصہ میں موجود ہیں۔“ اسی طرح فری ٹاؤن کے میئر ( ALDAMANA FREHMAN) نے خطاب کرتے ہوئے کہا :- احمد یہ جماعت بنی نوع انسان کی ہر ممکن خدمت کر رہی ہے۔اسلام کی خدمت کے لئے واقعی ایسی ہی منظم جماعت درکار تھی سو خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو اسلام کی خدمت کیلئے کھڑا کر دیا۔ملک کی خدمت کیلئے جماعت نے نہایت ہی اہم اور دور رس پروگرام شروع کئے ہوئے ہیں پرائمری سکولز میں عربی اور انگریزی دونوں زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے، کے علاوہ سیکنڈری سکول کی عمارت جماعت کی ہمت و استقلال کی آئینہ دار ہے۔سب سے زیادہ قابل قدر کام جو جماعت احمد یہ اس ملک میں کر رہی ہے وہ سکولوں کو ایک خاص معیار پر چلانے کا ہے تعلیم کے میدان میں جماعت احمد یہ جو کوششیں کر رہی ہے ان کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔“ دوران کا نفرنس شوری کا اجلاس بھی ہوا جس میں مشن کی ترقی اور تبلیغی کام کو موثر طریق پر چلانے کے لئے دور رس تجاویز پر غور کیا گیا۔نیز لجنہ اماءاللہ کا اجلاس بھی ہوا۔ریڈ یوسیر الیون نے کانفرنس کی خبر نشر کی۔لائبیریا 40- مئی 1961 ء میں لائبیریا کے دارالحکومت منروویا میں آزاد افریقن ممالک کے سر براہوں کی کانفرنس ہوئی جس میں 21 ممالک کے نمائندگان نے شرکت کی۔اس کانفرنس میں مکرم مبارک احمد صاحب ساقی اخباری نمائندہ کی حیثیت سے شامل ہوئے۔اس موقع پر موصوف نے چار ممالک کے وزراء اعظم اور تین ممالک کے پریذیڈنٹوں سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کر کے ان کی خدمت میں قرآن مجید اور اسلامی لٹریچر پیش کیا اور ہر ایک کو ایڈریس پیش کرتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مختصر تاریخ اور مشن کی مساعی