تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 346 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 346

تاریخ احمدیت 346 جلد 21 صاحب جواب دیتے۔حضور ان کے جواب پر معترض ہوتے تو شیخ صاحب کہتے کہ حضرت ! ہم عیسائیوں کے پاس اس سے بڑھ کر اور کوئی جواب نہیں“۔حضور روزانہ ان کو چار گھنٹے کے قریب وقت دیتے رہے۔حضور نے ان کے مذہب کی کمزوری ان سے منوا کر ان کے سامنے اسلام پیش کیا اور سب سے پہلے اس سوال کا جواب دیا کہ اسلام میں نجات کا کیا طریق ہے اور ذنب استغفار انبیاء کے کیا معنی ہیں۔22 دسمبر کو اس سوال کا جواب دیا کہ شریعت پر عمل ہوسکتا ہے یا نہیں۔پھر حضور نے گناہ سے بچنے کے طریق بیان فرمائے۔شیخ عبد الخالق صاحب جو ابتداء ہی میں سمجھ چکے تھے کہ عیسائیت کی بنیا د اسلام کے مقابل بالکل کھوکھلی ہے، حضور کے بیان فرمودہ حقائق کو سن کر دنگ رہ گئے اور اسلام قبول کر لیا۔شیخ صاحب قبول حق کے بعد مستقل طور پر قادیان آگئے اور دفتر تصنیف میں کام شروع کر دیا۔ہر چند کہ یہاں انکی زندگی سخت تنگی سے گذری مگر ان کا قدم کبھی نہیں ڈگمگایا اور انہوں نے ساری زندگی قلمی ولسانی خدمت میں گزار دی۔قادیان میں آپ واقفین کے استادر ہے پھر جامعہ احمدیہ میں بھی آپ کو عیسائیت کا مضمون پڑھانے کا موقعہ ملا۔حضرت مصلح موعود بھی بعض دفعہ آپ سے بائبل کے حوالے دریافت فرمالیتے تھے۔2 سیٹھ عبد القادر صاحب پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ لا بوان بورنیو : (وفات 17 جنوری 1961ء) آپ موصی تھے۔بور نیو میں سب سے پہلے احمدی ہوئے۔آپ کے عملی نمونہ اور تبلیغ سے بہت سے لوگوں کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔جماعت کی ہر تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔97 3۔میر محمد ابراہیم صاحب سابق پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ پسر ورضلع سیالکوٹ: (وفات 26 مارچ 1961ء) نہایت مخلص، نڈر اور جانباز احمدی تھے۔حق بات کہنے میں گویا شمشیر برہنہ تھے۔جماعت احمدیہ پسرور کی تنظیم و ترقی میں ان کی خدمات کا بھی عمل دخل ہے۔آپ 1952ء سے 1959 ء تک پریذیڈنٹ جماعت احمد یہ پسر ور ر ہے اور اپنے فرائض نہایت فرض شناسی اور مستعدی سے ادا کرنے کی سعادت پائی۔98