تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 342
تاریخ احمدیت 342 جلد 21 مرحوم اور ان کی اہلیہ۔اور انہوں نے وصیت کے ساتھ ہی وصیت کی رقم بھی ادا کر دی تھی اور گو حضرت شاہ صاحب مرحوم بیعت میں زیادہ قدیم تھے مگر خود مرحومہ کی بیعت بھی کافی پرانی تھی اس لئے صحابہ کے قطعہ خاص میں دفن ہوئیں اور ان کی اولاد کا دین و دنیا میں خدا تعالیٰ حافظ و ناصر ہو۔وفات کے وقت قمری حساب سے عمر غالباً 85 سال تھی۔حضرت امۃ الکریم صاحبہ اہلیہ حضرت قاضی عبد المجید صاحب مرحوم آف امرتسر۔(بیعت 1892ء۔وفات 19 نومبر 1961 ء بعمر 76 سال) بہت نیک اور پارسا خاتون تھیں۔آپ کا اکثر وقت ذکر الہی میں گذرتا تھا۔سلسلہ احمدیہ سے اخلاص کا یہ عالم تھا کہ 1/3 حصہ کی وصیت کی ہوئی تھی۔مالی جہاد میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔مہمان نوازی اور غرباء پروری کا وصف بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو ودیعت کیا تھا۔مرحومہ کی پوری زندگی دین کو دنیا پر مقدم کرنے میں بسر ہوئی۔محترمه حاکم بی بی صاحبہ: زوجہ محترم خواجہ محمد دین صاحب سیالکوٹی ان بزرگ صحابیات کے علاوہ 14 اپریل 1961 ء کو محترمہ حاکم بی بی صاحبہ زوجہ خواجہ محمد دین صاحب سیالکوئی بھی داغ مفارقت دے گئیں۔آپ شاعر احمدیت جناب عبدال ناہید صاحب کی والدہ محترمہ تھیں۔محترم ناہید صاحب کا تحریری بیان ہے کہ ”خاکسار کی والدہ محترمہ حاکم بی بی صاحبہ زوجہ خواجہ محمد دین صاحب پوسٹ ماسٹر ( مرحوم) حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی کی بڑی دختر تھیں۔14 اپریل 1961 ء بروز جمعہ قریباً اڑسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔۔۔۔آپ فرمایا کرتی تھیں کہ جب میری ابھی شادی نہیں ہوئی تھی میں اپنی پھوپھو صاحبہ کے پاس غالبا 8-7-1906 ، میں گئی تھی۔وہاں پر سب لڑکیاں جن میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی اہلیہ محترمہ۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی بیگم صاحبہ۔مولوی محمد علی صاحب کی پہلی بیوی محترمہ فاطمہ بیگم صاحبہ محترمہ حاجرہ بیگم صاحبہ جو حضرت خلیفتہ المسیح اول کی نواسی تھیں