تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 343 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 343

تاریخ احمدیت 343 اور قریب سب ہم عمر تھیں۔حضرت اقدس کے دولت خانہ پر رہتی تھیں۔اور اکثر حضور کے پاس بیٹھنے کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب عام طور پر حضرت اقدس کے مکان میں ہی رہتے تھے اور حضور اپنی رہائش گاہ سے ملحق ہی ان کو کمرے دے دیتے تھے۔اس طرح والدہ صاحبہ کو بہت قریب سے اللہ تعالیٰ کے مسیح اور ان کی زوجہ محترمہ حضرت اماں جان اور ان کی اولاد کو دیکھنے اور ان پاک نفوس کی صحبت میں رہنے کا فخر حاصل تھا۔حضرت اقدس جب اپنے خدام کے ساتھ سیر کو جایا کرتے تو یہ سب بیگمات اور مولویانی صاحبہ حضرت اماں جان کی معیت میں ساتھ جایا کرتی تھیں۔اگر لڑکیاں زیادہ ہوتیں تو وہ باری باری رتھ پر سوار ہوتی تھیں۔انہی ایام میں خاکسار کی والدہ محترمہ نے حضرت اقدس کے دست مبارک پر بیعت کی تھی۔آپ کے والد محترم حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب پہلے ہی بیعت کر چکے تھے۔2۔خاکسار راقم الحروف کی اہلیہ عائشہ محمودہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ان ایام کی یاد تازہ کرتے ہوئے ایک دفعہ والدہ محترمہ نے انہیں بتایا کہ ایک عید سے قبل حضرت اماں جان نے میرے لئے ایک نیا جوڑا بنوایا۔۔۔جب کھانے پر تمام لڑکیاں پہنچ گئیں تو حضرت اماں جان نے مجھے وہاں نہ پا کر پھوپی صاحبہ سے دریافت کیا کہ حاکم بی بی کہاں ہے۔آپ نے بتایا کہ وہ آپ کا دیا ہوا جوڑا آج پہنا چاہتی تھی مگر میں نے نہیں دیا۔اس لئے اس نے کپڑے نہیں بدلے اور کمرہ میں ہی ہے۔آپ نے پھوپی صاحبہ سے فرمایا کہ وہ جوڑا اسے پہننے کے لئے دیدو۔چنانچہ میں وہ جوڑا پہن کر آ گئی اور اس بات کے احساس سے کہ میری خفگی کا سب کو علم ہو گیا ہے کچھ شرما کر پیچھے کھڑی رہی۔حضرت اماں جان نے دیکھا تو فرمایا ” آساڈیا حاکما آجا یہ انہی پاک شب و روز کی نیک صحبت کا نتیجہ تھا کہ والدہ مرحومہ خوب پابندی سے ارکان دین حق ) بجالاتی تھیں۔بے فائدہ باتوں سے اجتناب کرتی تھیں اور ذکر الہی میں مشغول رہتیں۔غیبت دروغ گوئی۔عیب چینی۔غرور و تکبر اور کسی کی تحقیر کرنے سے نفرت تھی اور ان باتوں سے بچنے کی ترغیب دیتی تھیں۔محلہ کی تمام عورتیں آپ کی شرافت اور خوش اخلاقی کے باعث آپ سے بہت محبت رکھتی تھیں اور آپ کو بڑے احترام سے دیکھتی تھیں۔ہم نے گھر میں اکثر یہ نظارہ دیکھا کہ کوئی محتاج عورت گھر میں آئی اور اس نے اپنا مقصد جلد 21