تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 335
تاریخ احمدیت 335 جلد 21 1947 ء میں آپ ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے اور راج گڑھ متصل چوبرجی لاہور میں مقیم ہو گئے۔آپ نے جولائی 1917ء میں وصیت کی۔آپ کو تحریک جدید کے دفتر اول کا مجاہد ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔آپ صاحب رؤیا اور مستجاب الدعوات اور نہایت ہی خلیق بزرگ تھے۔حضرت مولوی محمد جی صاحب ( سابق استاد مدرسہ احمدیہ ) نے آپ کی وفات پر لکھا: آپ کی زندگی صحابہ کی زندگی کی طرح دل میں روشنی پیدا کرنے والی تھی۔آپ سوچنے اور غور کرنے والے بزرگ تھے۔اپنے دل میں ہمسایہ اور دوست اور محتاج کی سب کی غمخواری کا خیال رہتا تھا۔ایک دفعہ جب دیکھا کہ کارکنوں کو خوردنی اور ضروری استعمال کی چیزوں کے حصول میں دقت پیش آرہی ہے اور بعض دوست بریکار اور مفلس ہیں تو ضروری اشیاء کے گودام قائم کرنے کا ارادہ کیا اور متعدد دوستوں سے پانچ پانچ روپے فی حصہ لے کر گودام قائم کیا جس سے کارکنوں کے لئے اشیاء کا حصول آسان ہو گیا اور بہت سے بیکار کام پر لگ گئے۔پیغمبر علیہ السلام کے اس ارشاد کے موافق کہ صلہ رحمی سے بڑھ کر کسی عبادت کا ثواب نہیں۔قرابتداروں سے انتہائی محبت کا برتاؤ کیا کرتے تھے اور ان کے لئے کام سوچ کر اس پر لگا دیا کرتے تھے۔اس وقت ان میں سے بہت سے افراد سلسلہ کے لئے سفیر اور صاحب عزت وجود ہیں جو آپ کی شفقت سے اس درجہ کے اہل بنے۔آپ اپنے بچوں کو امانت سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ بچوں کا دل پاک ہوتا ہے اور تمام نقوش سے خالی ہوتا ہے اس میں سعادت کا بیج ڈالا جائے تو سعادت پر سرفراز ہوں گے۔آپ نے پیغمبر علیہ السلام کے ارشاد کی تعمیل میں اپنی لڑکیوں کو بڑی شفقت اور محبت سے تعلیم دلائی اور ان کو علم کے بالا درجہ تک پہنچایا۔بعض ان پڑھ دوستوں کی لڑکیوں کو بھی علم کے لباس کا مالک بنایا۔ان میں سے ایک بیوہ ہو گئی تو آپ کی کوششوں سے ڈاکٹری کا علم سیکھ لیا۔مغفور کی شفقت عام تھی۔صبر اور تحمل اور عفو کا اعلیٰ جو ہر موجود تھا۔ایک شخص نے آپ پر چغلی کھائی جو تحقیقات سے کذب بیانی ثابت ہوئی مگر آپ نے اس شخص کو نہ کبھی ملامت کی اور نہ ماتھے پر بل ظاہر کیا۔غرض آپ جیسے قد و قامت اور شکل و شباہت میں وجیہہ اور حسین تھے سیرت اور خلق میں بھی کافی اور وافر حصہ رکھتے تھے۔آپ کے نام کو رہتی دنیا تک یادرکھنے کے لئے کتاب ”تسھیل العربیہ" کا نایاب گوہر