تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 336
تاریخ احمدیت 336 جلد 21 موجود ہے جو مستفید ہونے والوں کے دلوں کو آپ کے لئے دعائے مغفرت کرنے کے لئے مائل کرتی رہے گی۔الغرض حضرت چوہدری صاحب مغفور کی زندگی پر یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے۔چناں زندگانی کن اندر جہاں که چون مرده باشی نگویند مرد جناب چوہدری غلام حیدر صاحب مرحوم سابق استاد مدرسہ احمدیہ وہیڈ ماسٹرتعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں نے آپ کا ذکر خیر کرتے ہوئے تحریر فرمایا: خاکسار کے تایا زاد بھائی تھے۔آپ کا آبائی وطن موضع ڈھپئی متصل کوٹلی لوہاراں ضلع سیالکوٹ ہے۔ہمارے خاندان اور گاؤں میں آپ سب سے پہلے احمدی ہوئے۔آپ موصی تھے۔نہایت ہی خلیق نیک پارسا اور سادہ طبع تھے۔ابتدائی تعلیم آپ نے خاکسار کے والد چوہدری محمد خان صاحب مرحوم کے پاس جو کہ ایک لمبا عرصہ پسر ور ہائی سکول میں مدرس رہے حاصل کی۔پھر علی گڑھ سے بی اے پاس کرنے کے بعد آپ نے لاہور سے ایس اے وی کی تعلیمی ڈگری حاصل کی اور تمام عمر قادیان میں بطور مدرس سیکنڈ ماسٹر، ہیڈ ماسٹر اور بعد ازاں مینیجر نصرت گرلز سکول کی حیثیت سے گزار دی۔خاکسار کے والد صاحب جب فوت ہوگئے تو یہ نا چیز بھی انہیں کے پاس قادیان بغرض تعلیم چلا گیا اور میٹرک قادیان سے ہی ان کے زیر سایہ پاس کیا۔یہ انہی کی طبیعت کی سادگی کا اثر تھا کہ خاکسار کو بھی لباس اور عادات واطوار میں سادگی سے ایک گونہ الفت ہوگئی۔73 اولاد پہلی بیوی سے: 1۔ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ ربوہ ( زوجہ چوہدری محمدتقی صاحب) 2۔چوہدری غلام احمد صاحب مقیم لندن 3۔چوہدری عبدالرحمان صاحب (پرنسپل جنجه یوگنڈا مشرقی افریقہ ) دوسری بیوی سے: 4 منظور فاطمہ صاحبہ بی اے بی ٹی ( اہلیہ شیخ حمد عبداللہ صاحب سعودی عرب ) 5- کنیز فاطمہ صاحبہ