تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 313
تاریخ احمدیت 313 جلد 21 دیکھ پائیں گی۔آپ نے حضرت مسیح موعود کے مبارک عہد میں بھی اور درویشی کے خاص دور میں بھی ایک ہی جتنا عرصہ پایا یعنی بارہ سال آٹھ ماہ کے قریب۔آپ کی زندگی نہایت قابل رشک تھی۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات اعلیٰ علیین میں بلند فرمائے۔اور ہمیں بھی آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے تاثرات : 28۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب کا وصال 5/6 مئی 1961 ء کو پاکستان میں ہوا اور تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔آپ جیسی عظیم شخصیت کی وفات پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے درج ذیل الفاظ میں تاثرات سپر د قلم فرمائے:۔حضرت بھائی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قدیم ترین رفقاء میں سے تھے اور ان کو یہ غیر معمولی امتیاز حاصل تھا کہ جبکہ ابھی بھائی صاحب بالکل نوجوان بلکہ گویا بچہ ہی تھے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیک وقت ہندو مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے اور احمدیت کی نعمت حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور پھر ایک لمبا عرصہ قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی صحبت کا موقعہ میسر آیا۔چنانچہ جب 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لاہور میں وصال ہوا تو اسوقت بھی حضرت بھائی صاحب حضور کے ساتھ تھے اور بالآخر ملکی تقسیم کے بعد حضرت بھائی صاحب کو قادیان میں درویشی زندگی کی سعادت نصیب ہوئی۔29 حضرت صاحبزادہ صاحب نے ایک اور نوٹ میں لکھا:۔حضرت بھائی صاحب کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ خلافت ثانیہ کی ابتداء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو سفر بھی فرماتے تھے اس میں لازماً حضرت بھائی صاحب کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے اور حضرت بھائی صاحب بڑی محنت اور جانفشانی سے ضروری خدمت بجالاتے تھے۔ایسے سفروں میں عموماً نیک محمد خان صاحب غزنوی بھی ساتھ ہوتے تھے۔چونکہ حضرت بھائی صاحب کی طبیعت بہت حساس تھی اس لئے حضور ان کی دلداری کا بہت خیال رکھتے تھے۔جب حضرت بھائی صاحب نے قادیان میں جا کر درویشی زندگی اختیار کی تو حضور نے اس زمانے میں ان کو صدر انجمن احمد یہ قادیان کا نمبر