تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 267
تاریخ احمدیت حضرت مصلح موعود کی املاء کر دہ تقاریر 267 حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی زبان مبارک سے جلد 21 اس مبارک اجتماع کے موقع پر حضرت مصلح موعود نے با وجود ناسازی طبع کے افتتاحی تقریر اور اختتامی خطاب ہر دو خود لکھوا کر ارسال فرما دئے تھے جنہیں حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے علی الترتیب پہلے اور آخری اجلاس میں ایسی پر شوکت آواز اور پُر درد لہجے میں پڑھ کر سنایا کہ ہزار ہا قلوب جو حضور کی زیارت اور براہ راست خطاب سے محرومی پر پہلے ہی انتہائی گداز کی حالت میں تھے تڑپ اٹھے اور حضور کی املاء کردہ اور روح پرور تقاریر انتہائی ذوق و شوق اور ولولہ عشق کے عالم میں سنیں۔بالخصوص اختتامی اور خطاب کی سماعت کے وقت احباب کی وارونگی اور کیف و سرور کا یہ عالم تھا کہ جلسہ گاہ بار بار بے ساختہ نعرہ تکبیر اور حضرت فضل عمر زندہ باد اور احمدیت زندہ باد کے پُر جوش نعروں سے گونج اٹھتی تھی۔اس پر معارف اور ایمان افروز تقریر کے آخر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے ایک مختصر لیکن نہایت جامع اور پُر سوز دعائیہ خطاب سے نوازا اور در دوسوز میں ڈوبی ہوئی ایک لمبی اجتماعی دعا کرائی۔20 ایمان افروز افتتاحی تقریر کا متن حضرت مصلح موعود کی روح پرور افتتاحی تقریر کا متن یہ ہے: اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر اللہ تعالیٰ کا بے حد و بے حساب شکر ہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے ہماری جماعت کے دوستوں کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ اپنی عمروں میں سے ایک سال اور سال کے اختتام پر دین اسلام کی تقویت اور اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے اس مرکزی اجتماع میں شریک ہوں جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اس کے مامور ومرسل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام نے آج سے ستر سال قبل رکھی تھی۔حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو قائم کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو دنیا خواہ کتنا زور