تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 257
تاریخ احمدیت 257 جلد 21 میں گزار دی۔کپڑے پھٹ جاتے مگر پرواہ نہ کرتے۔جیسا ہوا پہن لیا۔بے حد منصف مزاج۔انصاف سے فیصلہ کرنے والے۔مبارک اور مفید مشورہ دینے والے اور حق بات کہنے سے کبھی کسی کے سامنے بھی گریز نہ کرنے والے۔بچے معنوں میں بہادر تھے۔کوئی بات ہو مقابل میں خواہ عزیز اولاد ہو یا بیوی ( جنگی خاطر وعزت عمر بھر عزیز رہی) کھری اور انصاف کی بات صاف صاف کہہ دیتے۔۔۔۔۔بہت خوبیوں کے حامل تھے عوارض و علالت سے اس چاند کو گہن لگا رہا اور افسوس کہ ہمارے دلوں کو اپنی نہ بھولنے والی یا د کا داغ دے کر جلد رخصت ہو گئے۔انا للہ و انا اليه راجعون اخلاق و شمائل پر طائرانہ نظر مبارکہ بیگم 258- حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اوصاف حمیدہ کا دلکش نمونہ تھے۔آپ کا حلیہ اور آواز سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حلیہ مبارک اور آواز سے بہت ملتی تھی اور انداز گفتگو بہت سادہ اور دلکش تھا۔قرآن شریف اور احادیث نبویہ سے آپکو از حد محبت تھی۔نماز فجر کے بعد بلا ناغہ قرآن شریف کی تلاوت بآواز بلند فرماتے اور پھر تمام افراد خانہ کو حضرت مسیح موعود کی کتب کا درس دیتے تھے۔تلفظ کی صحت کا خاص اہتمام فرماتے۔اپنے بچوں ، پوتوں اور بعض بھتیجے اور بھتیجوں کو آپ نے ہی قرآن پڑھایا۔بیت مبارک ربوہ میں آپ حدیث نبوی کا درس دیتے رہے جس میں علمی نکات کے علاوہ خاص روحانی رنگ بھی جھلکتا تھا۔حضرت میاں صاحب سورۃ فاتحہ درود شریف اور یا حتی يا قيوم برحمتك نستغيث اور سبحان الله و بحمدہ سبحان الله العظیم کا ورد بکثرت کرتے۔سفر میں نماز ہمیشہ پہلے وقت میں ادا فرماتے اور اسی کی تلقین دوسروں کو کرتے۔آپ صاحب کشف اور مستجاب الدعوات تھے۔ایک بار شکار کی غرض سے ریاست کپورتھلہ تشریف لے گئے۔رات آپ کو ایک گاؤں میں گزارنا پڑی۔جس گھر میں آپ مہمان ٹھہرے اس گھر کا ایک بچہ اسی رات اچانک کہیں کھو گیا اور با وجود تلاش کے نہ ملا۔آپنے خاص توجہ اور درد سے دعا کرنی شروع کی کہ اے خدا میں ان کے گھر میں مہمان ہوں۔میرے ہوتے ہوئے ان کو کوئی دکھ نہ پہنچے تو انکا بچہ پہنچا دے۔دعا کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے کشفی رنگ میں دکھایا کہ بچہ محفوظ ہے اور ایک معمر شخص اس کو گھر پہنچانے آیا