تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 219
تاریخ احمدیت 219 جلد 21 حضرت ملک غلام فرید صاحب فرماتے ہیں:۔حضرت میاں محمد عبد اللہ خان صاحب خدا تعالیٰ کے نہایت شاکر بندے تھے اور غالبا یہ ان کے کیریکٹر کا سب سے نمایاں پہلو تھا۔میں نے ان پر تنگی کی حالتوں کو بھی دیکھا اور اس حالت کو بھی جب ان کی سالانہ آمدنی ہزاروں تک پہنچ چکی تھی۔وہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے نہیں تھکتے تھے۔میں نے بلا مبالغہ ان گنت دفعہ ان کی زبان سے یہ فقرہ سنا کہ ملک صاحب ! اللہ تعالیٰ نے مجھ پر بڑے ہی احسان کئے ہیں۔میں ان احسانات کا شکریہ ادا نہیں کر سکتا۔ان کے عبد شکور ہونے کا منظر میں نے ان کی لمبی اور خطر ناک بیماری میں دیکھا۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس خطر ناک اور لمبی بیماری کے دوران جبکہ ان کے جسم کا کوئی ایک انچ بھی ایسا نہ رہا تھا جن کو ٹیکوں سے نہ چھیدا گیا ہو۔اور جب ڈاکٹر صاحبان ان کی دل کی بیماری کے پیش نظر یہ بات سننے کے لئے بھی تیار نہ تھے کہ نواب صاحب موصوف چند دن سے زیادہ زندہ بھی رہ سکتے ہیں میں نے ایک دفعہ بھی ان کے منہ سے شکایت کا کلمہ نہ سنا۔اور بیسیوں مرتبہ میں نے اس بیماری میں ان کے منہ سے یہ فقرہ سنا کہ خدا کے مجھ پر بے انتہا احسان ہیں جن کا میں شکر ادا نہیں کر سکتا۔سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفہ اسیح الرابع ) تحریر فرماتے ہیں:۔غرباء کے ہمدرد۔کثرت سے صدقہ خیرات کرنے والے۔مہمان نوازی میں طرۂ امتیاز کے حامل اس قسم کے فدائی اور خلیق میزبان اس زمانہ میں تو شاذ و نادر ہی ہوں گے۔مہمان کے آرام کا خیال و ہم کی طرح سوار ہو جاتا۔میری طبیعت پر آپ کی مہمان نوازی کا ایسا اثر ہے کہ اگر غیر معمولی مہمان نوازی کا جذبہ رکھنے والے صرف چند بزرگوں کی فہرست مجھے لکھنے کو کہا جائے تو آپ کا نام میں اس فہرست میں ضرور تحریر کروں گا۔اس ضمن میں جناب مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ (امیر صوبہ پنجاب) کی ایک چشم دید شہادت بطور نمونہ درج ذیل کی جاتی ہے۔تحریر فرماتے ہیں:۔آپ مہمان نوازی کا اعلیٰ جذبہ رکھتے تھے۔جب بھی ملتے یہی خواہش فرماتے کہ ساتھ چلیں اور چائے یا کھانے میں شریک ہوں۔قادیان میں میں عام طور پر شہر والے نئے مہمان خانے میں رہتا تھا۔آپ اس زمانے میں حضرت مصلح موعود ایدہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی دار الحمد میں اقامت پذیر تھے۔ایک مرتبہ آپ نے میرا سامان و ہیں منگوالیا۔مہمان نوازی