تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 191 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 191

تاریخ احمدیت 191 شاد نگر کے مسلمان جن کے دکھ درد میں میں خود راست شامل تھا میرے شدید مخالف ہو گئے۔تمام دیہات کے مسلمان مستقر شاد نگر پر ایک مسجد میں جمع ہوئے اور بائیکاٹ کا ایک ریزولوشن پاس ہوا۔ایک جلسہ کے دوران میں میری تقریر ہونے لگی۔کوتوالی میں درخواست پیش کی گئی کہ نقض امن کا شدید اندیشہ ہے۔حتی۔۔۔۔۔کہ کو توالی کو ایک ڈویژن فورس برقرار انتظام کے لئے جلسہ گاہ میں مقرر کرنی پڑی۔ایک اور مسجد میں مجھ پر اور میری جماعت پر حملہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔اور ایک مرشد اور بعض مقامی مسلمان جو وعدہ کر کے لے گئے تھے کہ ایک پُر امن فضا میں جلسہ ہوگا ہنگامہ پر آمادہ ہو گئے۔شاد نگر میں بسا اوقات جب میں باہر نکلتا تو مسلم دوستوں کا ہجوم کا ہجوم میرے ساتھ رہتا تھا لیکن جب رہائی کے بعد میں نے ایک دن اور رات شادنگر میں بسر کی تو میں یکا و تنہا تھا اور صبح ہونے سے پہلے میں نے شاد نگر چھوڑ دیا۔بعض ان میں سمجھدار دوست بھی تھے۔ایک دوست نے مجھے پروفیسر الیاس برنی صاحب کی ضخیم کتاب دی جو قادیانی مذہب کے نام سے شائع ہوئی ہے۔اور ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔میں نے بڑے غور۔۔۔۔کے ساتھ اس کتاب کا مطالعہ کیا۔اصل میں برنی صاحب نے اب تک بانی جماعت اور جماعت احمدیہ پر جو اعتراضات ہوئے ہیں ان پر اپنا ایک عنوان لگا کر اس کتاب کو شائع کیا ہے۔خود کہیں کہیں ایک ایک دو دو سطر میں طنزیہ انداز میں لکھ دی ہیں۔پوری کتاب پڑھنے اور اصل سے مقابلہ کرنے کے بعد برنی صاحب کی نسبت جو سابق میں میرے پروفیسر بھی رہ چکے ہیں میری یہ رائے ہے کہ ان کی حیثیت ایک ایسے حج کی ہے جو عرضی دعوی کو دیکھے بغیر محض جواب دعویٰ کو پڑھ کر مدعی کا مقدمہ خارج کر دے۔دوست احباب نے بہت سے مرشدوں مولویوں اور خطیبوں سے بھی ملایا۔حیدر آباد دکن کی تاریخی مسجد کے ایک بڑے خطیب مجھے سمجھانے کی بجائے بانی جماعت کی شان میں گندی باتیں اور گندے اشعار سنانے لگے۔بعض مولویوں کے مکان پر ہم پٹتے پیٹتے بچے ، رشتہ داروں کا حال یہ ہے کہ مرتبہ اور پوزیشن میں کئی درجوں کا فرق ہونے کے باوجود سب کے سب توہین آمیز سلوک پر اتر آئے ہیں۔میری اور میرے ان خاندان کے اراکین کا مکمل بائیکاٹ ہے جو بیعت کر چکے ہیں۔ہماری دعوتیں بھی بند ہیں۔فحش کلامی غیبت عیب جوئی وغیرہ وغیرہ میں ساری تفصیلات آپ سے کیا عرض کروں۔اس صفت کے مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ رحم کرے جلد 21