تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 183
تاریخ احمدیت 183 اس گاڑی میں گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس میں تشریف لے گئے خاکسار بھی ساتھ تھا باقی دوست بھی وہاں ملنے گئے۔شیخ صاحب نے اس وقت سیاہ اچکن ، شلوار اور ٹوپی پہن رکھی تھی۔کہنے لگے میرے پاس سوٹ بھی ہیں اب آپ لوگ بتا ئیں مجھے یہاں کیا لباس پہننا چاہئے جس سے مشن کا وقار اور تشخص قائم رہے۔ہم نے کہا اس موقع پر تو بہتر یہی ہے کہ اچکن شلوار اور ٹوپی پہنیں کیونکہ یہی لباس احمدی مربیان استعمال کرتے ہیں۔چنانچہ آپ جتنا عرصہ وہاں رہے اسی لباس میں ہر تقریب میں شریک ہوئے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ آپ پاکستانی لباس میں ہر جگہ نمایاں نظر آئے۔گیسٹ ہاؤس پہنچ کر آنریبل مصطفیٰ سنوی صاحب نائب وزیر اعظم کو آپ کی آمد کی اطلاع کی گئی اور ملاقات کے لئے وقت پوچھا گیا مگر آپ اتنے خوش ہوئے کہ کہنے لگے انہیں میرے پاس نہ لائیں بلکہ میں خود ان کی ملاقات کے لئے وہاں آؤں گا۔چنانچہ آر تشریف لائے اور تقریبا ایک گھنٹہ تک نہایت خوشگوار ماحول میں مختلف امور پر محترم شیخ صاحب سے گفتگو کرتے رہے اور بے حد متاثر ہو کر گئے۔محترم شیخ صاحب کے ساتھ جماعت احمدیہ کے مربیان کو بھی حکومت کی طرف سے آزادی کی تقریبات میں شرکت کی دعوت تھی۔لہذا خاکسار اور محترم شیخ نصیر الدین احمد صاحب ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوتے بعض تقریبات میں مکرم سمیع اللہ سیال صاحب اور مکرم غلام احمد صاحب نسیم کو بھی شریک ہونے کا موقع ملا۔ہر تقریب میں اچکن ، شلوار اور ٹوپی میں ملبوس ہمارا گروپ نمایاں نظر آتا جس سے پاکستان کے تشخص کا تصور بھی ابھرتا۔ایک تقریب میں جو وزیر اعظم صاحب کی طرف سے گورنمنٹ لاج میں منعقد کی گئی تھی ( حضرت مرزا ناصر احمد صاحب قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر جب 1970 ء میں سیرالیون کے دورہ پر تشریف لے گئے تو آپ کا قیام بھی اسی لاج میں تھا ) اس تقریب میں ہم ایک جگہ کھڑے تھے اور آنریبل نائب وزیر اعظم مصطفی سنوسی پریذیڈنٹ لائبیریا مسٹر ٹب مین کا لوگوں سے تعارف کرا رہے تھے اچانک ان کی نظر ہم پر پڑی تو سب کو چھوڑ کر وہ سیدھے ہماری طرف آئے اور محرم شیخ بشیر احمد صاحب اور ہمارا تعارف کرایا اور احمد یہ مشن کی خدمات کا بھی تذکرہ کیا۔اس موقع پر محترم شیخ صاحب کی ملاقات بہت سے اور نمائندگان کے علاوہ روسی جلد 21