تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 182 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 182

تاریخ احمدیت 182 عیسائی مشنوں کے علاوہ احمد یہ مشن کے مربیان دین حق کی اشاعت کے علاوہ ہماری تعلیمی، طبی اور سوشل خدمات میں ہمہ تن مصروف ہیں لہذا ان کی گراں قدر خدمات اس امر کا تقاضا کرتی ہیں کہ سیرالیون کے جشن آزادی کے موقع پر ان کے بھی ایک نمائندہ کو شرکت کی دعوت دی جائے اور حکومت سیرالیون اس کے آمد ورفت کے اخراجات برداشت کرے۔چنانچہ یہ تجویز پارلیمنٹ میں منظور ہو گئی اور احمد یہ مشن کو اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا گیا۔جس کے نتیجہ میں مرکز سے محترم شیخ بشیر احمد صاحب حج ہائیکورٹ آف پاکستان خصوصی طور پر جشن آزادی سیرالیون میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے۔آنریبل مصطفیٰ سنوسی ہمارے نمائندہ کی شرکت کے لئے اتنی دلچسپی کا اظہار کر رہے تھے کہ ایک موقع پر محض نام کی غلط فہمی کی بناء پر وہ ہمارے پاس فری ٹاؤن مشن ہاؤس میں آئے مگر میں اس وقت وہاں نہیں تھا لہذاوہ پیغام چھوڑ گئے کہ جب میں آؤں تو فوری طور پر انہیں آفس میں آکر ملوں۔چنانچہ جب خاکسار وہاں گیا تو وہ بہت منتظر نظر آ رہے تھے مجھے کہنے لگے پاکستان سے بذریعہ ہائی کمشنر برطانیہ اطلاع ملی ہے کہ جماعت احمدیہ کے ایک دوست شیخ بشیر احمد صاحب بطور نمائندہ تشریف لا رہے ہیں کیا یہ آپ ہی کے نمائندہ ہیں؟ اس وقت تک مجھے بھی مرکز کی طرف سے محترم شیخ بشیر احمد صاحب کے نام کی اطلاع مل چکی تھی۔میں نے کہا فکر نہ کریں محترم شیخ بشیر احمد صاحب جماعت احمدیہ کے ہی نمائندہ ہیں جس سے ان کو تسلی ہو گئی اور اگلے روز وہاں کے اخبار ڈیلی میں شائع ہو گیا کہ احمدیہ مشن کے نمائندہ کے طور پر جسٹس شیخ بشیر احمد صاحب جشن آزادی میں شرکت کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔محترم شیخ بشیر احمد صاحب 22 اپریل 1961 ء کو فری ٹاؤن پہنچے۔ایئر پورٹ پر خاکسار محترم شیخ نصیر الدین احمد صاحب جو اس وقت امیر اور مشنری انچارج تھے اور بو سے جو مشن کا ہیڈ کوارٹر تھا تشریف لائے۔اور جماعت کے بعض سرکردہ احباب استقبال کے لئے موجود تھے۔حکومت کی طرف سے بھی آپ کے استقبال کا انتظام تھا۔چنانچہ ہمیں دیکھتے ہی حکومت کے ایک آفیسر ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ایک نئی گاڑی بمع ڈرائیور آپ کے نمائندہ کے لئے موجود ہے اور جشن آزادی کے ایام میں یہ گاڑی بمع ڈرائیوران کی تحویل میں رہے گی تا کہ وہ تقریبات کے علاوہ جہاں چاہیں جاسکیں چنانچہ شیخ صاحب جلد 21