تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 9 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 9

تاریخ احمدیت 9 جلد 21 ہر دو اصحاب کی خدمت میں دینی لٹریچر پیش کیا جس پر انہوں نے اظہار تشکر کیا۔14۔27 دسمبر 1960ء کو چیف جسٹس آف انڈیا ڈاکٹر بھونیشور پرشاد نے تارا پور کالج میں انعامات تقسیم کئے اس موقع پر جماعت احمدیہ خانپور ملکی کے ایک وفد نے انہیں قرآن کریم اور دیگر اسلامی لٹریچر کی پیشکش کی۔مولوی عبدالرحمن صاحب فانی نے موصوف کی خدمت میں ایڈریس پیش کرتے ہوئے جماعت کا تعارف کرایا۔اور موجود معززین میں بکثرت لٹریچر تقسیم کیا۔جموں میں ایک کامیاب جلسہ: 15 مقبوضہ کشمیر کے بڑے شہر جموں کے مولانا آزاد پارک میں جماعت کا ایک جلسہ ہوا جس میں مولا نا شریف احمد صاحب امینی نے ایک تقریر کی۔ایک دوست محمود احمد صاحب آف دھرم سال داخل سلسله ہوئے جلسہ کی کارروائی اخبار سندیش نے 11 جولائی 1960 ء کو حسب ذیل الفاظ میں شائع کی: 8 جولائی 1960 ء رات 9 بجے سے 1 بجے تک مولانا آزاد پارک جموں میں ایک مذہبی جلسہ زیر اہتمام جماعت احمد یہ منعقد ہوا جس میں مولانا شریف احمد صاحب امینی مبلغ اسلام آف مدراس نے اسلام اور امن عالم پر ایک مبسوط تقریر کی آپ نے موجودہ زمانہ کی سائنسی ترقی اور نئی نئی ایجادات کے غلط استعمال اور نیز سینما کلچرل اجتماعات کے بد تاثرات کا تفصیل سے ذکر کیا۔آپ نے بتلایا کہ ایٹمی بموں سے دنیا کا اصل امن قائم نہیں ہوسکتا۔البتہ دنیا کا امن ضرور برباد ہوسکتا ہے۔جیسا کہ حال ہی کے تجربات ثابت کر رہے ہیں۔آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت خود زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنے دو۔ہمدردی حسن اخلاق اور پر یم و محبت سے دنیا کا امن صحیح معنوں میں قائم ہو سکتا ہے۔آگے چل کر آپ نے کہا کہ آجکل عقلی دلائل کا زمانہ ہے۔لوگوں کو ہر مذہب کا غور سے مطالعہ کرنا چاہیے۔اسلام نرمی محبت اور شفقت کے ساتھ دلائل پیش کرنے کا حکم دیتا ہے۔اسلام کہتا ہے کہ ہر مذہب میں خوبیاں پائی جاتی ہیں۔اور یہی وہ گھاٹ ہے جس پر ہم سب اکھٹے ہو کر ایک دوسرے کے قریب ہو سکتے ہیں۔اسلام اس بات کی بھی دعوت دیتا ہے کہ تمام پچھلے واقعات کو بھول جاؤ کیونکہ تم پچھلے کے ذمہ دار نہیں ہو۔آپ نے ہندو، سکھ اور مسلم اتحاد سے پریم و محبت کی بے شمار مثالیں پیش کیں۔اور سنے والوں کو قائل کر دیا کہ دنیا کا امن واقعی ان اصولوں کے بغیر نہیں ہوسکتا۔