تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 161
تاریخ احمدیت 161 جلد 21 احمد یہ مشن آئیوری کوسٹ کا قیام فصل دوم جدید تحقیق کے مطابق ابتدائی ہجری صدیوں میں ہی یہاں اسلام کا پیغام پہنچ گیا تھا اور جیسا کہ سید قاسم محمود صاحب مورخ پاکستان نے اپنی کتاب ”اسلامی دنیا میں لکھا ہے: مالی میں ٹمبکٹو سے نائیجیریا میں سو کو تو ، تک مسلمان تاجروں کے قافلے جاتے تھے۔راہ میں آئیوری کوسٹ کا شہر بونتو کو ایک اہم پڑاؤ کی حیثیت رکھتا تھا۔تیرھویں اور چودھویں صدی عیسوی میں آئیوری کوسٹ کا شمالی علاقہ مالی کی اسلامی سلطنت کا حصہ تھا۔اٹھارویں صدی میں یہ گئی میں فو تا جانوں کے بادشاہ ابراہیم سمبیگو کی سلطنت کا حصہ تھا۔اٹھارویں صدی میں پرتگیزی جہاز راں اور تاجر گنی کے ساحلی علاقوں پر حریصانہ نظروں کے ساتھ منڈلانے لگے تھے۔ان کی دیکھا دیکھی فرانسیسیوں کی آمد شروع ہوئی۔چونکہ قبائل کے ساتھ عام طور پر ہاتھی دانت کی تجارت ہوتی تھی ، اس لئے اس علاقے کو ہاتھی دانت کا ساحل ( آئیوری کوسٹ ) کہا جانے لگا۔اٹھارویں صدی میں گئی اور شانتی قبائل مشرق سے اٹھ کر آئیوری کوسٹ کے جنوبی علاقوں میں آکر آباد ہو گئے اور انہوں نے اپنی اپنی سلطنتیں قائم کیں۔تاجروں کے ساتھ ساتھ عیسائی پادری مبلغ بھی پہنچ گئے جو لا مذہب قبائل کو عیسائیت کی طرف راغب کرنے لگے۔اس تحریک میں انہیں خاصی کامیابی ہوئی۔1842ء میں فرانس نے شاہ گنی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت ساحلی علاقے گرینڈ باسم کو فرانسیسی انتداب میں شامل کر لیا گیا۔آئیوری کوسٹ کا شمالی علاقہ ماؤسی حکومت کا حصہ تھا ، جس کا ایک حکمران انیسویں صدی کے وسط میں عیسائیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔اس کا اسلامی نام ابوبکر رکھا گیا۔1883ء میں فرانس نے آئیوری کوسٹ کو اپنے زیر انتداب لے لیا۔دسمبر 1958ء میں فرانس کے زیر اثر اسے خود مختار جمہوریہ کی حیثیت حاصل ہو گئی۔17 اگست 1960 ء کو اسے مکمل آزادی مل گئی اور 20 ستمبر کو اقوام متحدہ کا رکن بنا۔مسلمان آئیوری کوسٹ کی کل آبادی کا چوتھائی حصہ ہیں جو سب کے سب مالکی مسلک رکھتے ہیں۔مسلمان زیادہ تر شمالی اضلاع میں آباد ہیں۔پورٹ بوبیت اور ساحلی شہر مارکوری