تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 94
تاریخ احمدیت 94 کی سلطان عبدالحمید نے کہا اگر ایک بات نہیں ہوئی تو اسے خدا پر چھوڑ دو۔آخر ہمیں خدا کے لئے بھی تو کوئی خانہ خالی رکھنا چاہئے۔سارے خانے ہم نے ہی تو پر نہیں کرنے۔چنانچہ اس کے ایمان کا یہ نتیجہ ہوا کہ کجا تو یہ حالت تھی کہ یورپ سمجھتا تھا لڑکی فوجیں ایک قلعہ بھی فتح نہیں کرسکتیں اور کجا یہ کہ انہوں نے چھ ماہ میں ہی وہ جنگ جیت لی۔اور یورپ کی فوجیں جن کا انہوں نے یونان سے وعدہ کیا تھا اس کی مدد کو بھی نہ پہنچ سکیں۔اسی جنگ میں ایک جرنیل کو کمانڈر انچیف نے حکم دیا کہ تم فلاں قلعہ فتح کرو۔اور اس مہم کے لئے اس نے تین دن کا عرصہ مقرر کیا۔دو دن تک اس جرنیل نے پوری کوشش کی لیکن وہ قلعہ فتح کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔تیسرے دن اس نے اپنے سپاہیوں کو بلایا اور کہا کہ ہم نے اس قلعہ کو آج شام تک فتح کرنا ہے۔میں اس قلعہ پر چڑھتا ہوں تم سب میرے پیچھے پیچھے آؤ۔چنانچہ وہ قلعہ کی دیوار پر چڑھا۔سپاہی بھی بہادری کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے چڑھنے لگے۔نصف فاصلہ پر پہنچے تو جرنیل نے کہا ہمیں دشمن تک اس کی بے خبری کے عالم میں پہنچنا ہے اس لئے تم اپنے بوٹ اتار لو۔رستہ میں پتھروں کی وجہ سے پاؤں زخمی ہو گئے۔تو سپاہیوں نے بوٹ پہننے کی اجازت چاہی۔مگر اس نے اجازت نہ دی۔نصف فاصلہ سے کچھ آگے گئے تو اچانک دشمن کی ایک گولی جرنیل کے سینہ میں آ لگی۔سپاہیوں نے اسے اٹھا کر کسی امن کی جگہ میں لے جانا چاہا تو اس نے کہا میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے یہیں پڑا رہنے دو۔اور اگر میں مر جاؤں تو شام کو مجھے اس قلعہ کی چوٹی پر دفن کرنا۔ورنہ میری لاش کو کتوں کے آگے پھینک دینا۔سپاہی اپنے محبوب جرنیل کے اس فقرہ کی وجہ سے مجنون ہو گئے۔اور اس کے ماتحت افسروں نے پاگلوں کی طرح آگے بڑھنا شروع کیا۔اور شام کو قلعہ کی چوٹی پر جھنڈا لہرا دیا۔حالانکہ دشمن کا خیال تھا کہ لڑکی اس قلعہ کی ابتدائی کڑیاں بھی چھ ماہ میں فتح نہیں کر سکتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے لڑکی کی مدد کی۔اور اس نے نہ صرف ابتدائی کڑیاں ہی فتح کیں بلکہ تین دن میں قلعہ کو اپنے قبضہ میں لے لیا۔اسی طرح مسلمانوں میں اور بھی کئی غیور بادشاہ پیدا ہوئے ہیں۔جلد ۲۰