تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 82
تاریخ احمدیت کو اجاگر کیا۔82 جلد ۲۰ لیکچر کے بعد مسٹر سیڈوف اور پروفیسر نکیتان تین بجے سہ پہر کے قریب بذریعہ موٹر کار لاہور روانہ ہو گئے۔فضل عمر ہسپتال ربوہ کی عمارت جس فضل عمر ہسپتال ربوہ کی نئی عمارت کا افتتاح کا سنگ بنیاد حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۰ فروری ۱۹۵۶ء کو رکھا تھا اس سال کے شروع میں پایہ تکمیل کو پہنچی جس کا افتتاح حضور نے ۲۱ مارچ ۱۹۵۸ء کو ساڑھے پانچ بجے شام فرمایا۔اس یادگار تقریب میں خاندان حضرت مسیح موعود کے افراد، رفقاء مسیح موعود ، صدر انجمن احمدیہ کے ناظر ، تحریک جدید کے وکلاء اور دیگر کارکنان سلسلہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔حضور انور ساڑھے پانچ بجے کے قریب محترم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب کی معیت میں قصرِ خلافت سے بذریعہ موٹر کار تشریف لائے۔محترم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب، ڈاکٹر بشیر احمد صاحب اور ڈاکٹر محمد احمد صاحب نے آگے بڑھ کر حضور کا استقبال کیا۔تقریب افتتاح کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بزرگ رفیق ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے کی۔بعد ازاں حضور نے ایک پرسوز اجتماعی دعا کرائی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ خدمت خلق کے اس عظیم الشان ادارے کی نو تعمیر عمارت کا افتتاح عمل میں آیا۔صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب نے فضل عمر ہسپتال کے احاطہ میں تعمیر ہونے والی بیت الذکر کا سنگ بنیا د رکھنے کے لئے بیت مبارک قادیان کی ایک اینٹ حضور کی خدمت میں پیش کی جس پر حضور نے دعا کی۔حضور کے تشریف لے جانے کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے سنگ بنیا د رکھا۔اس جگہ کو یہ تاریخی اہمیت حاصل ہے کہ ربوہ آباد ہونے سے قبل ۲۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کو جب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی یہاں تشریف لائے تو حضور نے عین اس جگہ پر پہلی نماز پڑھائی تھی۔سے پہلے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے ہاتھ سے بنیاد میں بیت مبارک قادیان کی وہ اینٹ نصب فرمائی جس پر سیدنا حضرت مصلح موعود نے دعا کی تھی۔ازاں بعد حضرت میاں صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی اور حضرت ماسٹر فقیر اللہ صاحب نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی جس کے بعد حضرت میاں صاحب نے اجتماعی دعا کرائی۔الفضل ۲۳ مارچ ۱۹۵۸ء صفحه ۱ - ۸)