تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 70 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 70

تاریخ احمدیت توحید میں داخل ہورہے ہیں (نعرے) 70 10 جلد ۲۰ لطف کی بات یہ ہے کہ بعض پہلوؤں سے ہندوؤں کا معیار بہت بلند ہے۔جب شروع میں ہم نے ہندو علاقے میں کام کا آغاز کیا تو ہمارے سامنے ایک بڑی دقت یہ تھی کہ عیسائی مناد اور عیسائی پادری وغیرہ وہاں بے شمار خرچ کر رہے تھے۔ان دنوں باہر سے جو امداد آتی تھی وہ امریکہ خاص طور پر پادریوں کے ذریعہ تقسیم کرواتا تھا۔میں اس وقت وقف جدید میں تھا۔چنانچہ مجھ پر بہت دباؤ ڈالا گیا کہ ہمیں بھی کوئی امدادی سکیم چلانی پڑے گی۔ورنہ ہم ناکام ہو جائیں گے۔مجھے اس علاقے کا دورہ کرنے کا بھی موقع ملا۔میں نے معلمین کو بھی اور دوسرے دوستوں کو بھی سمجھایا کہ یہ ایک گری پڑی قوم ہے جس کی عزت نفس کو صدیوں سے کچلا جارہا ہے۔ہم تو ان کو اعلیٰ انسان بنانے آئے ہیں۔اس سے ادنیٰ درجے پر پہنچانے کے لئے نہیں آئے۔جس پر یہ اس وقت قائم ہیں۔اس ساری تذلیل اور انتہائی بدسلوک کے باوجود اس قوم میں بعض خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ یہ لین دین کے معاملے میں صاف ستھرے ہیں اور دوسری یہ کہ یہ بھیک نہیں مانگتے۔محنت کر کے کماتے ہیں۔میں نے کہا یہ ایک قدر اور خوبی جسے زمانے نے نہیں کچلا، تم مجھے مشورہ دیتے ہو کہ اس کو بھی کچل دیا جائے۔ہرگز ایسا نہیں ہوگا۔( دینِ حق ) شرف انسانیت کو قائم کرنے کے لئے آیا ہے شرف انسانیت کو مٹانے کے لئے نہیں آیا۔میں نے ان سے کہا کہ تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔نتیجہ یہ نکلا کہ لاکھوں روپے کی امداد ان ہندوؤں کو عیسائی بنانے میں ناکام ہو گئی۔اور ہم ساتھ جو چندہ بھی مانگتے تھے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں کامیاب ہو گئے اور آج وہاں ۱۴۳ ایسے گاؤں ہیں جہاں خدا کے فضل سے دین حق نافذ ہو چکا ہے۔(نعرے) ایک نو مسلم احمدی کے اخلاص اور ایمان کا واقعہ بھی آپ کو سنا دوں۔جب ۱۹۶۵ء کی جنگ ہوئی تو وقتی طور پر جس طرح جنگ کے دوران فوجیں کسی بارڈر پر آگے بڑھ جاتی ہیں اور کہیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔اسی طرح پاکستان کے اس بارڈر میں جہاں نو مسلم احمدی زیادہ ہور ہے تھے، وہاں ایک حصے میں ہندوستانی فوج آگے بڑھ رہی تھی۔ہندوستانی فوجیوں نے بعض نومسلموں کو پکڑا اور زدوکوب کیا اور بہت دباؤ ڈالا کہ کسی طرح وہ ارتداد اختیار کر جائیں یعنی شدھ ہو جائیں۔ان میں سے ایک نو مسلم کو چار پائی پر باندھ دیا گیا اور پتے اکٹھے کر کے اس کے نیچے آگ لگادی گئی اور اس سے کہا کہ اگر آج تم نے اسلام سے تو بہ نہ کی تو جل کر یہیں خاک ہو جاؤ گے۔اس نے بڑے اطمینان سے کہا کہ ہاں میں جل کر خاک ہو جاؤں گا لیکن اس مذہب