تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 69
تاریخ احمدیت 69 جلد ۲۰ ہونے والے الہی افضال و انعامات پر روشنی ڈالتے ہوئے وقف جدید کے عظیم الشان کارناموں کا وجد آفریں انداز میں تذکرہ کیا چنانچہ ارشاد فرمایا : - جیسا کہ ہر سال ہوتا چلا آرہا ہے امسال بھی وقف جدید نے نمایاں اضافہ کے ساتھ 9 لاکھ تر اسی ہزار روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔جہاں تک معلمین وقف جدید کا تعلق ہے وہ بڑی قربانی اور ہمت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔معلم کو بہت معمولی وظیفہ ملتا ہے۔بعض دفعہ انہیں بڑے سخت حالات در پیش ہوتے ہیں۔بعض اوقات ان کے لئے بیک وقت عزت نفس کو قائم رکھنا اور معمول کے مطابق زندگی گزارنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔مثلاً ان کے گھر والے کہیں اور رہتے ہیں اور وہ خود کہیں اور۔اب یہ ناممکن ہے کہ تھوڑے سے روپے میں جو ان کو ملتا ہے، اس کو تقسیم کر کے وہ دونوں زندہ رہ سکیں۔اس کے باوجود معلمین یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور جماعت پر ان کا انحصار نہ ہو۔کیونکہ گزشتہ تجربہ بتا تا ہے کہ اگر گاؤں کی روٹیوں پر پلنے والا کوئی ملاں بن جائے تو اس میں تربیت کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اس لئے ان کو بعض اوقات ان حالات میں بڑی مشکل سے گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ایسے واقعات بھی ہوئے ہیں کہ بعض دفعہ معلمین مجبور ہوکر جماعت کے اخلاص کے نتیجہ میں اس کی خدمت کو قبول کر لیتے ہیں لیکن دو چار ماہ بعد انہوں نے جماعت سے کہا کہ اب ہم سے یہ چیز برداشت نہیں ہو سکتی۔آپ اس قصے کو بند کریں۔جیسے بھی ہو ہم گزارہ کرتے رہیں گے۔۔۔66 وقف جدید اور ہندوؤں میں تبلیغ اس سلسلے میں ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوؤں میں جو تبلیغ ہو رہی ہے وہ اللہ کے فضل سے بہت خوش کن نتائج پیدا کر رہی ہے۔اس کے علاوہ خیراتی ہو میو پیتھی ادارہ بھی ہے۔پھر اپنی توفیق کے مطابق سندھی، پشتو وغیرہ میں چھوٹے چھوٹے رسائل بھی شائع کرتے ہیں۔لیکن وقف جدید کی اصل خدمت ہندوؤں میں تبلیغ کرنا ہے۔جن کو پاکستان میں پہلے کلیۂ نظر انداز کیا گیا تھا۔میرے خیال میں پاکستان بننے کے بعد کی جماعت کی تاریخ میں پہلا پھل جو ہندوؤں میں سے ملا ہے وہ وقف جدید کو ملا ہے اور اب تو یہ کیفیت ہے کہ ہر سال ہزار، گیارہ سو ہند و شرک سے تو بہ کر کے