تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 819 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 819

تاریخ احمدیت 819 جلد ۲۰ فصل سوم پاکستان، مصر اور سیرالیون کے بغض مخلصین احمدیت کا ذکر خیر ان بزرگ ہستیوں کے علاوہ ۱۹۶۰ء میں کئی اور مخلصین احمدیت بھی داغ مفارقت دے گئے جن میں سے بعض کا تذکرہ مختصر اذیل میں کیا جاتا ہے۔چوہدری فیض احمد بھٹی صاحب ( وفات یکم را پریل ۱۹۶۰ء ) حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب ( آف قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ ) کے نواسے تھے۔۱۹۰۴ء میں بعمر چھ سال حضرت مسیح موعود کی زیارت کی ۱۹۲۵ء کے قریب مستقل طور پر قادیان آگئے اور کم و بیش اٹھارہ سال تک الفضل کی کتابت کا کام کیا۔حضرت مسیح موعود کی کتب کے والہ وشیدا تھے۔تحریک جدید کے پانچہزاری مجاہدین میں سے تھے ہجرت کے بعد کنری ( سندھ ) میں مقیم ہو گئے تھے۔سید بدر الحسن صاحب کلیم ( وفات ۱۲ را پریل ۱۹۶۰ء ) ۲۔۹۳ اخبار ” فاروق الحکم “ اور الفضل ، میں ۳۰-۳۲ سال تک خوشنویسی کی۔سلسلہ کی کئی کتب آپ کے ہاتھ سے لکھی ہوئی طبع ہوئیں۔تحریک شدھی کے زمانے میں عرصہ چھ ماہ تک متھر آگرہ اجمیر بہار اور بند را بن میں تبلیغی فرائض انجام دئے۔قیام قادیان کے زمانہ میں ہر سال دو ایک ماہ اپنے وطن جھنجھا نہ ضلع مظفر نگر جاتے اور پیغام احمدیت پہنچاتے۔۔۹۴ - السید جلال الدین عبد الحمید خورشید صاحب ( وفات یکم مئی ۱۹۶۰ء) مصر کے ایک نہایت مخلص احمدی نوجوان جو حضرت مصلح موعود کی دُعا سے پیدا ہوئے اور خدا تعالیٰ کے ایک نشان تھے۔خدام الاحمدیہ قاہرہ کے سیکرٹری تھے۔جماعتی کاموں میں