تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 814 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 814

تاریخ احمدیت 814 جلد ۲۰ آلائشیں سر سے پاؤں تک میرے جسم سے نکل گئی ہیں اور وہ روحانیت اور عشق الہی میں مخمور آنکھیں مجھے آج تک اسی طرح یاد ہیں جیسے کہ میں نے پہلی بار دیکھی تھیں۔1 جماعت میں نظام امارت قائم ہوا تو آپ کو حلقہ پوہلہ مہاراں کا امیر مقرر کیا گیا۔وفات تک آپ کو ضلع سیالکوٹ کی قریباً چوتھائی جماعتوں کے فرائض امارت کمال خوش اسلوبی سے سنبھالنے کی سعادت نصیب ہوئی مظلوم کی مدد کے لئے شمشیر بر ہنہ تھے اور ہر حال میں سچائی پر قائم رہنا اُن کا وصف تھا۔ایک قتل کے مقدمہ میں آپ کے دو عزیز ماخوذ تھے۔ان کے خلاف موقعہ کی کوئی شہادت نہ تھی لیکن انہوں نے آپ کو آ کر بتا دیا تھا کہ ہم قتل کر آئے ہیں۔مخالفین نے عدالت میں آپ کا نام بطور گواہ لکھوا دیا۔عدالت نے آپ کو بطور گواہ طلب کر لیا وہاں زار زار روتے بھی تھے اور سچی گواہی بھی دے رہے تھے جس کے نتیجہ میں ان دونوں رشتہ داروں کو پھانسی کی سزا ہوگئی۔فرض نمازوں کے علاوہ نماز تہجد اور اشراق اور نوافل کے باقاعدگی سے پابند تھے۔اٹھتے بیٹھتے ، لیٹتے ، چلتے پھرتے غرض ہر حالت میں دعاؤں میں لگے رہتے تھے۔قرآن مجید پڑھنے پڑھانے میں انتہائی راحت محسوس کرتے تھے۔مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری نے آپ کی وفات پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فرمایا۔ضلع سیالکوٹ کی جماعتوں کے چند بزرگ رفقاء میں سے ایک نمایاں بزرگ چودھری صاحب موصوف تھے۔آپ کو زمینداروں میں تبلیغ کا سلیقہ بھی آتا تھا اور اس کے لئے طبیعت میں جوش بھی تھا۔جلسوں کے بہت شوقین تھے۔خود مرکز سلسلہ قادیان میں جا کر مبلغین لا یا کرتے تھے اور جب تک حالات سازگار رہے با قاعدہ سالانہ جلسہ کراتے تھے۔مہمان نوازی آپ کا خاص وصف تھا ان کے گاؤں سے مبلغین کی واپسی ان کو بہت شاق گذرتی تھی وہ ہر ممکن طریق سے اسے زیادہ سے زیادہ ملتوی کر نیکی کوشش فرماتے تھے اپنی اولا د کو خد خدمت سلسلہ کے جذبہ سے سرشار کرنا اُن کا خاص مقصد تھا بے تکلف دوست، تہجد گذار اور نہایت دعا گوا اور صاحب الہام بزرگ تھے۔“ حضرت با بو قاسم دین صاحب (امیر جماعت احمد یہ ضلع سیالکوٹ ) نے تحریر فرمایا :۔وو چوہدری صاحب ضلع سیالکوٹ کی ایک ممتاز قوم مہار سے تعلق رکھتے تھے آپ نے