تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 806 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 806

تاریخ احمدیت 806 جلد ۲۰ حضور میرے لئے تو حضور کے دستر خوان کا بچا کھچا کھانا ہی اعلیٰ ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی شادی ہوئی تو الدار کے جن خادموں کو انعام دیا گیا اُن میں آپ بھی تھے اس موقع پر حضور نے اپنے دست مبارک سے آپ کو سرخ رنگ کی ایک لنگی اور مبلغ ۵ روپے عطا فرمائے۔آپ نے لنگی لے لی اور روپے واپس حضور کے ہاتھ پر رکھ کر کہا کہ حضور یہ میری طرف سے چندہ ہے جسے حضور نے قبول فرما لیا۔آپ کی بیوی کو صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم ابن حضرت مصلح موعود کو دودھ پلانے کی سعادت بھی نصیب ہوئی چنانچہ آپ کی روایات میں یہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ یہ عاجزاندر والے کنویں پر سے پانی بھر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے اور فرمایا۔میاں بدرالدین ہمارے بچے کی والدہ بیمار ہے اور بچے کو دودھ پلانا ہے۔( بچے سے مراد صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب مرحوم حضور کے پوتے ہیں ) اور معلوم ہوا ہے کہ آپ کی بچی فوت ہو گئی ہے اور آپ کی بیوی کا دودھ ابھی تازہ ہے۔اس پر میں نے عرض کی کہ حضور میری بیوی نے تو ابھی منسل وغیرہ ( جسے عام طور پر چھلہ کہتے ہیں ) بھی کرنا ہے۔اور لوگ ایسی حالت میں عورت کا دوسروں کو دودھ پلانا بہت بڑا منحوس کہتے ہیں۔اس پر حضور نے فرمایا کہ نہیں نہیں یہ سب با تیں شرک ہیں۔اگر آپ منظور کرتے ہیں تو اپنی بیوی کو ہمراہ لے آئیں۔اس پر عاجز نے آ کر اپنی بیوی سے کہا اور پھر اُسے اپنے ہمراہ لے گیا۔اور جا کر حضور کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی حضور باہر تشریف لائے اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب سے فرمانے لگے کہ ڈاکٹر صاحب ان کے دودھ کا معائنہ کریں“ اس پر ڈاکٹر صاحب نے میری بیوی کے دودھ کو دیکھا اور حضور سے کہنے لگے کہ حضور دودھ بالکل صاف ہے۔پھر حضور نے بچے کو منگوایا اور اُسے دودھ پلانے کو کہا تو میری بیوی نے بچے کو اُٹھا کر دودھ پلانا شروع کر دیا اور بچے نے بھی دودھ پینا شروع کر دیا۔ہجرت قادیان سے قبل آپ ریتی چھلہ میں سبزی فروشی کا کام کرتے تھے۔ہجرت کے بعد ربوہ میں رہائش اختیار کر لی بعد ازاں دو سال تک سندھ میں رہے اور وفات سے ہفتہ عشرہ قبل بیماری کی حالت میں ربوہ واپس آئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے فضل عمر ہسپتال میں آپ کے علاج معالجے کا اہتمام کر دیا اور مجلس خدام الاحمدیہ حلقہ گولبا زار نے آپ کی تیمارداری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا لیکن آپ اس بیماری سے صحت یاب نہ ہو سکے اور ۳ / جولائی ۱۹۶۰ ء کو اپنے مولائے حقیقی کے حضور حاضر ہو گئے۔وو ۱۶۳۔۶۴