تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 802 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 802

تاریخ احمدیت 802 جلد ۲۰ لنگر خانہ و مہما نخانہ کے سپر د کر کے فرمایا کہ صبح کو سکول حاضر ہو جاؤ۔سب بند و بست ہو جائے گا۔اگر چہ میرے خیالات پراگندہ تھے۔مگر پنجگانہ نمازی تھا۔مسجد میں آمد ورفت کے باعث معلوم ہوا کہ ہم سنی ہیں اور یہاں کے باشندے وہابی دکھائی دیتے ہیں۔چنانچہ ایک روز نماز ظہر یا عصر پڑھ کر نکلنے لگا تو جماعت کی صف بندی شروع ہو گئی۔مجھے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے زبر دستی جماعت کے ساتھ شامل ہونے کے لئے کہا۔میں نے بہتیرے ہاتھ پاؤں مارے کہ بابا میں نماز پڑھ چکا ہوں مگر نقار خانہ میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے۔مجھے جبراً شامل کیا گیا۔مرتا کیا نہ کرتا طوعاً و گڑھا کھڑا ہو گیا۔مگر دل میں یہی دعا کرتا رہا کہ الہی میرا گناہ بخشیو میں دیدہ و دانستہ ان کے ساتھ شامل نہیں ہوا۔بعد ازاں قادیان سے بھاگ نکلنے کا مصمم ارادہ کر لیا اور حضرت مفتی صاحب سے اجازت چاہی۔آپ نے بے حد محبت و پیار سے مجھے روکنا چاہا۔مگر بدگمانی کا بھوت مجھے کہاں ٹکنے دیتا تھا۔میں بے تحاشا بھا گا اور دریائے بیاس سے پار ہو کر اپنے رشتہ داروں کے پاس پہونچ گیا وہاں میری تلاش میں والد بھی پہونچے ہوئے تھے وہ آپس میں چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا قادیان سے۔شامت اعمال دیکھیئے کہ چند حقہ باز ملا نے بھی موجود تھے۔بس پھر کیا تھا۔کہرام مچ گیا ہر طرف سے مجھ پر بھر پڑے۔کہ تم وہاں کیوں گئے وہاں تو ایک شخص اپنے آپ کو خدا بتاتا ہے۔کبھی کہتا ہے کہ میں عیسی ہوں۔اور امام مہدی ہوں۔غرضیکہ سب کے سب حضرت اقدس مرزا صاحب کی شانِ مبارک میں بکواس کر نے لگ گئے۔میں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے کہ جتنے دن بھی قادیان رہا ایک دن بھی میں نے نہ سنا کہ یہاں کوئی شخص اپنے آپ کو خدا کہتا یا عیسی بنتا ہے۔میں نے ہر چند اُن لوگوں سے کہا کہ ایسا وہاں کوئی شخص نہیں۔مگر میری ایک نہ سنی گئی۔آخر مجھے یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ اچھا بھئی اگر وہاں کوئی شخص ایسا ہے جو خدا بنتا اور مہدی وعیسی بنتا ہے تو میں تو پہلے ہی خدا کا متلاشی ہوں اور اسی دھن میں لگا پھرتا ہوں اور اگر چہ وہاں سے میں بے حد اداسی میں اور قادیان کے باشندوں کو وہابی پا کر اور اُن سے متنفر ہو کر آیا ہوں مگر اب میں دوبارہ ضرور وہاں اُس خدا کو دیکھنے جاؤں گا۔خواہ تم مجھے کتنا ہی تنگ کرو۔میں ہٹ دھرمی اور ضدی مشہور تھا۔مجھے طرح طرح سے ورغلاتے کہ تم علیگڑھ۔دیو بند یا دہلی لکھنؤ چلے جاؤ۔جتنا خرچ ما ہوا ر مانگو گے دیا جائے گا۔مگر قادیان مت جاؤ مگر ع زمین جنبد نہ جنبد گل محمد