تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 801
تاریخ احمدیت 801 جلد ۲۰ ہوشیار پور میں میرے خیالات آریہ سماج میں جانے کی وجہ سے دہریت اور پھر آریہ مت کی طرف منتقل ہو گئے اور اینگلو مڈل بڑی تزک و احتشام سے پاس کرنے کی وجہ سے آریہ سماج میری عاشق ہوگئی اور اس نے مجھے اپنی طرف راغب کرنے کے لئے اور اپنے سکول میں لے لینے کی خاطر بے حد جد و جہد شروع کر دی اسی دوران میں میاں اکبر علی مرحوم تاجر کتب ہوشیار پورسیمیری جان پہچان ہو گئی وہ خفیہ احمدی تھے۔انہوں نے دریافت کیا اب کیا ارادہ ہے؟ میں نے آریہ مت قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا وہ کہنے لگے کہ کیوں میں نے جواب دیا کہ اسلام میں کیا رکھا ہے۔سماج میں تو مزے ہی مزے ہیں خوب بھجن ہوتے ہیں۔راگ رنگ اور طرح طرح کے نظاروں سے طبیعت خوب بہلتی ہے۔انہوں نے اصرار کیا کہ قبل اس کے تم آریہ مت اختیار کرو۔پہلے اسلام کی چھان بین کر لو۔میں نے پوچھا کہ کہاں کروں ؟ مولوی لوگ تو برائے نام مسلمان ہیں۔قلا عوذ ئیے۔جمعراتیئے اور ختم وغیرہ پڑھ کر روٹی کھانے والے ہیں۔یوں ہی بگلا بھگت دکھائی دیتے ہیں۔بسم اللہ کے معنی پوچھو تو بتلاتے نہیں۔لمبی لمبی تسبیجیں پھیر کر گنڈے تعویذوں سے مسلمانوں کا مال ڈکارتے ہیں یوں ہی تقدس مآب بنے ہوئے ہیں اور واعظاں کیں جلو ہ بر محراب و منبر می کند چوں بخلوت شامیر وند آن کار دیگر می کند کے مصداق ہیں۔خیر انہوں نے باصرار کہا کہ میں جگہ بتلاتا ہوں وہاں پہنچ کر اسلام کی تحقیقات کرنے کے بعد جو چاہو کرنا۔مگر پہلے وعدہ کرو کہ کسی کو بتلائے بغیر وہاں چلے جاؤ گے میں نے کہا ہاں۔وہاں ضرور جاؤں گا۔انہوں نے مجھے قادیان مغلاں کی طرف رہنمائی کی۔وہاں سے چھوٹتے ہی اپنے والد بزرگوار سے رشتہ داروں سے ملنے کا بہانہ کر کے سیدھا پیدل قادیان پہنچ گیا۔اور حضرت حکیم الامہ کے درس مبارک میں داخل ہوا۔جو کہ آپ اپنے عمر رسیدہ شاگردوں کو اپنے مطب میں حدیث و فقہ اور طب وغیرہ کا درس دیتے تھے۔آپ نے درس میں شامل کر کے مجھ غریب سے دریافت فرمایا بچے کہاں سے آئے ہو؟ کیا مطلب ہے؟ میں نے اپنا مدعا ظاہر کیا۔پھر فرمایا کچھ پڑھے لکھے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ اینگلوور نیکر مڈل پاس ہوں۔آپ نے نہایت پیار سے مجھے مولوی قاضی یا رمحمد صاحب وکیل نور پور ) کے سپر د کر کے فرمایا کہ مفتی صاحب ( حضرت مفتی محمد صادق صاحب ) کے پاس لے جاؤ اس کی دینی و دنیوی تعلیم کا انتظام کریں گے۔حضرت مفتی صاحب نے مجھے مہتم