تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 800 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 800

تاریخ احمدیت 800 جلد ۲۰ دولت خاں کو دی جاتی ہے۔آپ کا افسر حیران رہ گیا۔اس نے دوبارہ لکھا تو بالا افسر کا حکم آیا کہ ہمارے پہلے حکم کی تکمیل کر وترقی دولت خاں ہی کو دی جاتی ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے جو افضال آپ پر ہوئے ہمیشہ ان کا ذکر کرتے تھے۔تبلیغ کا آپ کو بہت جوش تھا دعوت الی اللہ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ہر چھوٹے بڑے کو پیغام حق پہنچاتے تھے۔فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میرا بھائی مجھے مولوی ثناء اللہ صاحب کے پاس امرتسر لے گیا۔جب مولوی صاحب سے آپ کی گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں مرزا صاحب اپنے ماننے والوں کو کیا پڑھا دیتے ہیں۔ہر سوال کا جواب اُن کے پاس پہلے سے موجود ہوتا ہے۔۱۹۲۳ء میں ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد آپ قیام پاکستان تک جماعت احمدیہ کا ٹھ گڑھ کے سیکرٹری مال رہے اور اس کام کو نہایت محنت اور خوش اسلوبی سے ادا کیا۔۱۹۴۷ء میں کا ٹھ گڑھ سے ہجرت کر کے چک ۴۹۷ / ج - ب تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ میں آباد ہو گئے اور ۱۹۵۹ ء تک مسلسل سیکرٹری مال اور پریزیڈنٹ جماعت کے طور پر خدمات بجالاتے رہے۔چندہ با قاعدہ ادا فرماتے اور دوسروں سے بھی وصول کر کے مرکز کو بر وقت ارسال کرتے تھے۔سلسلہ کے کارکنوں کی خصوصیت سے بہت مہمان نوازی کرتے اور با وجود بوڑھے اور کمزور ہونے کے خود کھانا لا کر مہمان کے آگے پیش کرتے۔آپ مجاہد مشرقی افریقہ مکرم مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل کے حقیقی چچا تھے۔اولاد چوہدری علی محمد صاحب چوہدری محمد علی صاحب لطیفہ بیگم صاحبہ چوہدری محمد علی خاں صاحب اشرف ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر ولادت ۱۶ / اکتوبر ۱۸۸۳ء بیعت ۱۹۰۳ ء وفات ۱۶ جون ۱۹۶۰) چوہدری محمد علی صاحب اشرف اپنی سوانح میں لکھتے ہیں۔" خاکسار ۱۶ اکتوبر ۱۸۸۳ ء میں پیدا ہوا اور سوا چار سال کی عمر میں تعلیم شروع کی۔ورنیکلر مڈل پاس کر کے محکمہ پٹوار میں داخل ہو کر ہوشیار پور پہنچا مگر وہاں سے دل برداشتہ ہو کر اسلامیہ ہائی سکول ہوشیار پور میں انگریزی تعلیم حاصل کر نے لگا۔اور چند مہینوں میں اینگلو مڈل بڑی شان و شوکت سے پاس کیا۔اوائلِ زندگی قبر پرستی میں گذری مگر