تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 792 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 792

تاریخ احمدیت 792 جلد ۲۰ پڑی۔میں نے کہا کہ مسجد میں ہی رات کا بقیہ وقت گزار کر صبح قادیان کی طرف جانا چاہیے۔مسجد میں گئے ابھی تھوڑا وقت ہی ہوا تھا کہ ایک صاحب نے آ کر کہا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا۔میں مسافر ہوں قادیان جانا ہے۔اس نے گالی دیتے ہوئے سختی سے کہا کہ خبیث مرزائی آ کر مسجد کو خراب کر جاتے ہیں۔صبح مسجد دھونی پڑے گی۔تم یہاں سے نکل جاؤ۔میں نے کہا میں تو کبھی یہاں آیا نہیں۔نہ کسی کو جانتا ہوں خدا کے گھر سے کیوں نکالتے ہو؟ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔اس پر وہ گالیاں دیتا اور سخت سست کہتا بڑ بڑا تا ہوا چلا گیا۔میں صبح فجر کی نماز پہلے وقت پڑھ کر قادیان کے لئے روانہ ہوا اور یہ مسافت پیدل طے کی 66 ” مجھے معلوم نہ تھا کہ قادیان میں حضرت اقدس کے مکان کدھر ہیں۔میں محلہ کمہاراں میں پہنچا اور ایک گلی کی طرف گیا جو سیدوں کے مکانات کی طرف جاتی ہے تو مجھے محسوس ہوا کہ ان میں تو کوئی روحانیت نہیں اور یہ مکان حضرت صاحب کے نہیں۔میں نے ایک لڑکے سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اس راستہ سے سیدھا جاؤ۔آگے مہمان خانہ آ جائے گا تب میری جان میں جان آئی اور میں مہمان خانہ پہنچا۔اس وقت میاں اللہ دین صاحب فلاسفر مرحوم مہمان خانہ میں داخل ہوتے ہی ملے۔انہوں نے پوچھا لڑ کے کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے ڈاکٹر صاحب کا ذکر کر کے کہا کہ انہوں نے مجھے بیعت کرنے کے لئے بھیجا ہے۔وہ بہت خوش ہوئے۔ایک چار پائی دی اور کہا کہ اس پر آرام کرو۔تھوڑی دیر بعد کہا کہ چلو لنگر خانہ میں روٹی کھا لو۔پھر نماز ظہر کے لئے مسجد مبارک میں جانا ہے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائیں گے۔“ مسجد مبارک میں پہنچنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک کھڑکی میں سے مسجد مبارک میں تشریف لائے۔میں نے جب حضور کو دیکھا تو بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ یہ تو سراپا نور ہی نور ہے۔یہ تو بچوں اور راستبازوں کا سا چہرہ ہے۔یہ وہی شخص ہے جس کی بابت اخبار الحکم میں کلمات طیبات حضرت امام الزماں سلمہ الرحمن پڑھا کرتا تھا اور جس مقدس وجود باجود کی مجھے تلاش تھی الحمد للہ مغرب کی نماز کے بعد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام شہ نشین پر جلوہ فرما ہوئے تو حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے میرا بازو پکڑ کر حضور کے پیش کیا اور فرمایا کہ حضور یہ لڑکا بیعت کرنا چاہتا ہے۔حضور نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا۔کل بیعت کر لینا۔میں نے اس وقت دیکھا کہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب م عرفانی ایڈیٹر الحکم ایک ٹمٹاتے چراغ کی بہت مدہم سی روشنی میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی