تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 793
دو تاریخ احمدیت 793 جلد ۲۰ زبان مبارک سے جو کلمہ نکلتا ہے کھڑے کھڑے پنسل سے نوٹ کر رہے ہیں۔دوسرے دن جب نماز مغرب کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے تو تھوڑی دیر بعد فرمایا بیعت کرنے والے آگے آجائیں“ پ شہ نشین سے اُتر کر مسجد کے فرش پر تشریف فرما ہوئے اور بیعت ہوئی۔میرے ساتھ دو اور دوست بیعت کرنے والے تھے بیعت کے بعد حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے مع جماعت دعا فرمائی اور حضرت ایڈیٹر صاحب الحکم نے اپنی نوٹ بک میں ہر سہ کے نام لکھ لئے قادیان سے واپسی کے بعد آپ کے دل میں یہ شدید تمنا پیدا ہوئی کہ کاش آپ کو قادیان میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں رہنے کا موقعہ ملتا۔آپ نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں قادیان میں رہوں گا خواہ وہاں فاقہ کرنا پڑے یا محنت مزدوری کر کے گزارہ کروں مگر رہوں گا قادیان میں۔چنانچہ ۱۹۰۴ ء میں آپ ہجرت کر کیقا دیان آ گئے اور دفتر الحکم میں پانچ روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے۔اخبار کی دستی لکھنا، چٹیں بنانا اور ان کو اخبار پر لگانا اور پھر ٹکٹیں چسپاں کر کے ڈاک خانہ تک پہنچا نا آپ کا کام تھا۔اس طرح مرکز میں سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا آغاز ہوا۔اس زمانہ میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک نشان کا گواہ بننے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔حضرت اقدس علیہ السلام کو ۲۸ فروری ۱۹۰۷ ء کو الہام ہوا کہ سخت زلزلہ آیا اور آج بارش بھی ہو گی۔خوش آمدی نیک آمدی چنانچہ یہ پیشگوئی صبح کو ہی قبل از وقوع تمام جماعت کو سنائی گئی اور جب یہ پیشگوئی سنائی گئی۔بارش کا نام ونشان نہ تھا اور آسمان پر ایک ناخن کے برابر بھی بادل نہ تھا اور آفتاب اپنی تیزی دکھلا رہا تھا اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ آج بارش ہو گی اور پھر بارش کے بعد زلزلہ کی خبر دی گئی تھی۔پھر ظہر کی نماز کے بعد یک دفعہ بادل آیا اور بارش ہوئی اور رات کو بھی کچھ برسا اور اس رات کو جس کی صبح میں ۳ / مارچ ۱۹۰۷ ء کی تاریخ تھی زلزلہ آیا زلزلہ کی خبر اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور (۵ / مارچ ۱۹۰۷ء) اور اخبار عام لاہور ۲ مارچ ۱۹۰۷ ء ) میں شائع ہوئی۔اس پیشگوئی کے قبل از وقوع سننے والوں میں چوہدری برکت علی خاں صاحب بھی تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۵۷ پر آپ کا نام درج فرمایا ہے۔