تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 786
تاریخ احمدیت 786 جلد ۲۰ خاں صاحب نسیم کا بیان ہے کہ وو ۱۹۴۷ء کے شروع میں ہی بعض جگہوں میں فسادات شروع ہو گئے تھے۔آپ نے اپنے علاقے میں دورے کر کے تمام مسلمانوں کو آگاہ کیا کہ حالات جلد جلد بدل رہے ہیں تم لوگ تیاری کر لو تا آخر وقت میں نقصان نہ اٹھا ئیں۔خطر ناک سے خطر ناک مقامات میں جانے سے آپ دریغ نہ فرماتے تھے۔ایک واقعہ آپ نے مجھ سے کئی دفعہ بیان فرمایا کہ میں ( قادیان کے ماحول میں ایک گاؤں ) چوہدری والے کی طرف سے آ رہا تھا تو پنجگرائیں میں ایک قافلہ مسلمانوں کا جو موضع کو ہالی کی طرف سے آ رہا تھا اس پر سکھوں نے حملہ کر دیا۔اس وقت ادھر سے میں عین موقعہ پر پہنچ گیا۔میری کار دیکھ کر حملہ آور بھاگ گئے۔قافلہ والے مسلمان میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔میں نے ان کو تسلی دی ایک آدمی نے مجھے آ کر کہا کہ ہماری ایک لڑکی کو کچھ سکھ ٹانگے میں بٹھا کر ہم سے زبر دستی چھین کر لے گئے ہیں۔انہوں نے مجھے سمت بتائی۔میں نے ڈرائیور کو کہا کہ موٹر کو ان کے پیچھے جلد دوڑا ؤ۔جب ہم گاؤں سے نکلے تو وہ تانگہ ہم نے دیکھ لیا۔چنانچہ تھوڑی دیر میں ہم نے اُن کو جالیا۔وہ لڑکی کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔چنانچہ لڑکی لا کر اس کے والدین کے سپر د کر دی اور خود اس قافلہ کے ساتھ بٹالہ تک گیا اور ان کو کیمپ میں چھوڑ کر واپس آیا۔حضرت چوہدری صاحب نہ صرف ” نظام الوصیت“ سے وابستہ تھے بلکہ تحریک جدید کے پانچبزاری مجاہدین میں بھی شامل تھے۔وو ۳۶ سید نا حضرت مصلح موعود نے آپ کے انتقال پر حسب ذیل نوٹ سپر د قلم فر ما یا چوہدری فتح محمد صاحب سیال فوت ہو گئے ہیں انا لله و انا اليه راجعون۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان سے بہت محبت کرتے تھے۔رات کے وقت تار دینے کی ضرورت پڑتی تو ان کو ہی بٹالہ بھجوایا کرتے تھے۔جب خواجہ صاحب کو انگلستان میں مشکلات پیش آئیں تو حضرت خلیفہ اول نے ان کو ان کی مدد کے لئے بھجوایا تھا ڈاکٹر عبید اللہ صاحب امرتسری نے واپس آ کر ان کی بڑی تعریف کی کہ بہت صالح آدمی ہیں۔جب میں نے تفخیذ الاذھان جاری کیا تو جن لوگوں نے ابتدا میں میری مدد کی۔ان میں یہ بھی شامل تھے۔ملکا نہ تحریک ساری انہوں نے چلا ئی تھی۔حضرت خلیفہ اول کے داماد بھی تھے۔پٹی اور قصور کے بڑے زمیندار خاندان میں سے تھے۔بچپن سے میرے ساتھ کام کیا مجھے افسوس ہے۔۔۔۔۔۔