تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 783
تاریخ احمدیت 783 جلد ۲۰ بیچاروں کو کوئی بھی اپنے پاس نہیں آنے دیتا۔ایسے وقت میں آدمی کا دل نرم ہوتا ہے۔میں ان کے پاس گیا تھا تا میں اس سے فائدہ اٹھا کر ان کو تبلیغ کروں ممکن ہے کہ کسی کا دل احمدیت کی طرف مائل ہو جائے۔اللهم صلى على محمد و علی آل محمد سبحان اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس رفیق کو کس قدر تبلیغ کی اپنے دل میں لگن تھی۔اور کوئی موقع بھی تبلیغ کا ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ہمیں مسکرا کر فرمانے لگے کہ میں تو اس نیت سے ان کے اندر جا کر بیٹھا تھا کہ ممکن ہے کوئی مسیح پاک پر ایمان لے آئے۔تو کیا اللہ تعالے مجھے اس بیماری میں مبتلا کر دے گا۔یہ ناممکن ہے۔آپ لوگ بے فکر ر ہیں۔جیل میں قیام کے دوران میں قریباً پچاس اور ساٹھ کے درمیان دوست جماعت میں شامل ہوئے۔اور اس کام کے مکرم چودھری صاحب موصوف روح رواں تھے جب کسی کو تبلیغ شروع فرماتے تو ہم سب کو اکٹھا کر کے فرماتے کہ میں فلاں آدمی کو تبلیغ کرنے لگا ہوں۔تم سب مل کر اس کے لئے دعا کرو۔میں بھی دعا کر رہا ہوں۔بٹالے کے ایک دوست جیل میں تھے انہوں نے چودھری صاحب سے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ اس قدر مطمئن کس طرح ہیں۔آپ پر اس قید اور مصیبت کا ذرا بھی اثر نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اتنی دفعہ بشارت دی ہے۔کہ تم بخیر و عافیت جیل سے رہا ہو کر چلے جاؤ گے۔کہ اب مجھے یہ دعا کرتے ہوئے بھی اللہ تعالے سے شرم محسوس ہوتی ہے کہ میں اب مزید اپنی رہائی کی دعا کروں۔اس نے کہا کہ آپ میری رہائی کے لئے بھی دعا فرما دیں آپ نے مسکرا کر فرمایا کہ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں آپ کے لئے دعا کروں۔اگر آپ احمدی ہو جا ئیں تو آپ کے لئے دعا کروں گا۔اس دوست نے فرمایا کہ جس طرح آپ کو خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ رہا ہو جائیں گے آپ دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی کوئی ایسا اطمینان بخش نظارہ دکھا دے تا میں بھی مطمئن ہو جاؤں۔آپ نے یہ وعدہ فرما لیا۔کہ میں یہ دعا کروں گا۔چنانچہ چند دن کے بعد ہی اس دوست نے بھی ایک واضح رویاء دیکھی۔جس میں اس نے دیکھا کہ ہم پاکستان چلے گئے۔اور جیل کے دروازے کھل گئے ہیں۔اور ہم سب کو اپنے اپنے رشتہ دار لینے کے لئے آئے ہوئے ہیں۔اور مٹھائیاں تقسیم ہورہی ہیں وغیرہ۔اس کے بعد وہ دوست بھی جماعت میں شامل ہو گئے۔یہ دوست غلام محمد صاحب عرف ( گاماں