تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 780
تاریخ احمدیت 780 جلد ۲۰ تعلیم یا فتہ تو ہیں ملکا نے ہم دونوں کو پریشان کر رہے ہیں اس کا تو خیال ہو۔اگر آپ کہیں تو ہم آپ کے حسب مرضی جو جو گاؤں آپ چاہیں چھوڑ دیں لیکن باقیوں پر ہما را کامل تسلط ہوگا اور آپ کی طرف سے کوئی دراندازی نہ ہوگی۔اگر یہ بھی نہ ہو تو ہم یہاں سے چلے جاتے ہیں لیکن ایک سو چالیس گاؤں ہیں۔ان میں کم از کم دو سو اسی آدمی مبلغ درکار ہو نگے۔آپ کو اس کا انتظام کرنا ہو گا۔غرض کوئی معاہدہ بھی ہو لیکن استوار ہو۔خدا جانتا ہے کہ ہمیں یہاں آنے سے کوئی خاص غرض نہیں اور یہ شکایت محض جامبین کی بہتری کیلئے ہے انتھی کلامہ۔یہ تمام گفتگو نذیر احمد خاں صاحب اور عبدالحی صاحب نائب ناظم مجلس نمائیندگان کے روبرو ہوئی۔آخر نذیر احمد خاں صاحب عبد الحی صاحب کو اُٹھا کر ایک طرف لے گئے۔اور واپس آ کر عبدالحی صاحب نے کہا کہ آپ اپنے دیہات کی ایک فہرست ہمارے پاس بھیجد میں اس کے بعد ہم اُن نامزدہ دیہات میں کوئی مداخلت نہ کریں گے کہا گیا کہ چھ ماہ ہوئے ہیں آپ کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں کہ ہم کہاں کہاں ہیں۔بہر حال فہرست مطلوبہ ارسال کر دی جائے گی۔یہ تقریر میں نے واپسی پر رات کو ہی قلمبند کر لی تھی۔چوہدری صاحب مرحوم نصف صدی سے زیادہ اسی جوش، جوانمردی اور ہمت سے تبلیغ کا کام کرتے رہے بیماری میں بھی کام نہ چھوڑ ا مرحوم کا یہ نمونہ ہم سب کے لئے قابل عمل ہے در محبت مے نداند سوختن از ساختن ایں سعادت قسمت پروانہ شد اے ہمنشیں بے خطر بر شعله شمع حرم خود را فگند ہم زجاں پروانه را پروانہ شد اے ہمنشیں ۱۹۲۴ء میں سید نا حضرت مصلح موعود پہلی بار یورپ تشریف لے گئے اس تاریخی سفر میں آپ کو بھی حضور کی معیت کا شرف حاصل ہوا اس سفر سے مراجعت کے بعد حضرت چوہدری صاحب سالہا سال تک ناظر دعوت و تبلیغ اور ناظر اعلیٰ کے ممتاز عہدوں پر فائز ر ہے۔۱۹۴۶ ء میں آپ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور اس حیثیت سے بھی آپ کو مسلمانوں کی نمایاں خدمات بجالانے کا موقعہ ملا۔ملکی تقسیم کے وقت ۱۳ ستمبر ۱۹۴۷ء کو آپ قادیان میں گرفتار کر لئے گے اور