تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 778 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 778

تاریخ احمدیت 778 جلد ۲۰ اگست ۱۹۲۳ ء ا میر صاحب کی معیت میں نمائندگان تبلیغ کے دفتر میں گئے۔قریب سوا آٹھ بجے ( شب ) انکے دفتر میں پہنچے۔نذیر احمد خاں وکیل جے پوری جو فتنہ ارتداد کے دوران میں معروف ہو چکے ہیں وہاں موجود تھے اور آج ہی مہا سبھا بنارس سے واپس آئے تھے۔اس کے متعلق اپنے دفتر کے کلرک کو کچھ مضمون وہاں کی کارروائی کے متعلق لکھوا ر ہے تھے۔بدیں پیرا یہ کہ والیان ریاست کی طرف سے ایک ہزار نمائندے شریک تھے۔پنڈت مالویہ نے پر زور تحریک شدھی کے حق میں کی۔کہ خواہ کھان پان نہ ہو لیکن بھنگیوں چماروں تک کو کنوؤں سے پانی بھرنے مندروں میں درشن وغیرہ کی اجازت ضرور دی جائے۔پنڈت لوگوں نے مخالفت بھی کی لیکن مالویہ کے آگے انکی پیش نہ گئی اور بالآخر یہ پاس ہو گیا۔مارواڑی کروڑ پتی اور دور دراز 6 کے نمائیندے شریک تھے۔راجہ بھر تپور کی حسن کا ر کر دگی کا خصوصاً اعتراف کیا گیا۔اسکے بعد وکیل صاحب موصوف نے نوٹ لکھوایا کہ میرا یہ خیال ہے کہ اگر ہندوستان کی کل جماعتیں ایک شخص کے ماتحت کام نہ کریں لگی تو ۱۹۲۳ء ہی میں دو کروڑ نفوس مرتد ہو جائیں گے اور ہمیں مخاطب کر کے کہا کہ اگر میرے بس میں ہوتا تو اجمل خاں ، محمد علی شوکت علی، کچلو وغیرہ تمام مسلمان لیڈروں کو کہتا کہ لیڈری کو چھوڑ و شکاری شکا رکھیلتا ہے اور تم لوگ اس کی بندوق و تیر اُٹھائے پھرتے ہو۔وغیرہ۔اتنا عرصہ ہم خاموش بیٹھے رہے اور مضمون کے ختم ہونے پر امیر صاحب نے حرفِ مطلب یوں شروع کیا۔ہمیں نمائندگان تبلیغ سے سخت شکایت ہے ہم چھ ماہ سے یہاں پڑے ہیں۔ہماری جماعت کے بہترین آدمی بر سر کار ہیں۔ہم دو ماہ میں شدھی وغیرہ سب کو پورے طور پر رفع دفع کر گئے ہوتے لیکن یہ مولوی لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ہم جان تو ڑ کر مسلسل کوشش سے ایک دیہہ کو فتح کرنے والے ہوتے ہیں کہ آپ کا آدمی پہنچتا ہے اور کام خراب کر دیتا ہے۔ہمیں کا فر ٹھہرا کر ملکانوں کو بہلا پھسلا کر۔کنور عبدالوہاب صاحب وغیرہ یہاں نہیں رہتے ہم شکایت اُن سے کیسے کریں دین میں اعزازی عہدے نہیں ہوا کرتے کام کرنا ہوتا ہے ہم اب یہ برداشت نہیں کر سکتے یا تو مولوی کو۔۔۔دو دن کے اندر اندر نکال دیا جائے ورنہ ہم اس انجمن کے خلاف جو چاہیں گے کریں گے۔آریہ مسلمانوں سے بڑی قوم ہے۔انگریز اتنی بڑی قوم ہے ہم نے ان سے