تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 777 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 777

تاریخ احمدیت 777 جلد ۲۰ مخالف سلسلہ اخبار بھی شامل تھا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنے کے خلاف مہم شروع کی تو چوہدری فتح محمد صاحب مرحوم اس کے جرنیل مقرر ہوئے۔کام نہایت مشکل تھا۔ہزاروں مسلمان کہلانے والے اسلام سے منحرف ہو کر آریوں کی آغوش میں جا چکے تھے اور لاکھوں جانے والے تھے۔مجلس مشاورت قادیان میں ہوئی اور ہمارے اولو العزم امام نے یہاں تک تہیہ کیا کہ میری کل جماعت کی جائیداد تخمیناً دو کروڑ روپیہ کی ہو گی۔اگر ضرورت پڑی تو یہ سب املاک و اموال خدا کی راہ میں وقف کرنے سے میں اور میری جماعت دریغ نہ کریں گے۔شہر آگرہ میں ایک کرایہ کی کوٹھی میں دار التبلیغ قائم ہوا۔اس کے ایک حصے میں چوہدری صاحب معه اهل و عیال مقیم تھے۔دوسرے حصے میں مبلغین جماعت آ کر ٹھہر تے اور اپنے اپنے مقررہ مقام پر روانہ ہو جاتے۔سرکاری ملازم۔تاجر ٹھیکیدار۔وکیل۔عہد یدار۔علماء ہر طبقے کے احمدی والہا نہ خدمت دین حق ) میں مصروف تھے۔خاکسار نے دیکھا کہ چوہدری صاحب مرحوم اپنے بچے صالح محمد کو گود میں لئے معمولی سے معمولی ملکانے کے ساتھ کھڑے ہوئے۔گھنٹوں گفتگو فرما رہے ہیں۔یہ دلداری ایسی تھی کہ ملکا نے چوہدری صاحب سے ملکر ہی تسلی اور اطمینان پاتے تھے۔چوہدری صاحب مرحوم کا تعہد حال ہمارے لئے خوشی اور تعجب کا موجب ہوتا تھا۔تمام علاقے میں ہنگا مے بر پا تھے۔ہر طرف رواروی اور ہما ہمی تھی۔اگر آج چوہدری صاحب موضع پر کھم میں ایک مسجد کی بنیا درکھ رہے ہیں تو کل موضع اسہار میں مرتد ملکانوں کی اسلام میں واپسی کی تقریب پر شاداں و فرحاں احباب سمیت جا رہے ہیں۔اور اس طرح شب و روز فرائضِ منصبی میں بشاشت سے منہمک ہیں۔اور اس مشکل ترین مہم کے فرائض کا ایک پہاڑ سر پر اُٹھایا ہوا ہے اور امام کے اشارات و ہدایت کے مطابق چلے جا رہے ہیں اور الامام جنة يقاتل من و رائہ کا منظر ہے۔بعض اور انجمنیں بھی علاقہ ارتداد میں کام کر رہی تھیں یا کام بگاڑ رہی تھیں اور کبھی کبھی بلا وجہ محض حسد کی راہ سے ہمارے کام میں روک بن جاتی تھیں۔اسی قسم کا ایک واقعہ خاکسار کے روبرو پیش آیا۔انجمن نمائندگان تبلیغ نے بذریعہ ایک کا رکن ہمارے کام میں دراندازی کی۔چوہدری صاحب مرحوم کو علم ہوا تو بھرے ہوئے شیر کی مانند اس انجمن کے دفتر میں آئے خاکسار ہمراہ تھا۔پھر وہاں جو واقعہ پیش آیا سننے اور سمجھنے کے قابل ہے اور میرے روز نامچے میں یہ الفاظ ذیل درج ہے۔