تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 766
تاریخ احمدیت 766 جلد ۲۰ غیر مبائعین کے الگ ہونے کے بعد میرے ساتھ جتنے نو جوان رہ گئے تھے وہ کالجوں میں بھی پڑھتے تھے مگر وقت نکال کر دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے۔چنانچہ چوہدری فتح محمد صا۔سیال اور صوفی غلام محمد صاحب اپنے پرائیویٹ اوقات میں دینی تعلیم بھی حاصل کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے ایم۔اے اور بی۔اے بھی کر لیا اور دینی تعلیم بھی مکمل کر لی۔میں سمجھتا ہوں اگر اب بھی ہم پوری طرح اس طرف توجہ دیں تو چند سال کے بعد ہی ہمیں ایسے مخلص نوجوان ملنے شروع ہو جائینگے جو انجمن اور تحریک کے کاموں کو سنبھال سکیں گے۔پس سلسلہ کی ضروریات اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنے حوصلوں کو بلند کرو اگر انسان کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے ہی اپنے حوصلہ کو گرا دے اور سمجھے کہ میں کچھ نہیں کر سکتا تو یہ اسکی غلطی ہوتی ہے۔بیشک ایک انسان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ دنیا کو ہلا سکے لیکن وہ ہلانے کا ارادہ تو کر سکتا ہے۔اگر تم اپنے حوصلوں کو بلند کرو گے اور ستی اور غفلت کو چھوڑ کر اپنے اندر چستی پیدا کرو گے تو تھوڑے عرصہ میں ہی تم میں سے کئی نوجوان ایسے نکلیں گے جو پہلوں کی جگہ لے سکیں گے۔میں نے تحریک جدید میں نو جوانوں کو لگا کر دیکھا ہے وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہے ہیں بلکہ شروع میں میں جن کے متعلق سمجھتا تھا کہ ممکن ہے وہ اس کام کے اہل ثابت نہ ہو سکیں انہوں نے بھی جب محنت کی تو اپنے کام کو سنبھال لیا اور اب وہ خوب کام کرتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر عزم تھا اور انہوں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر ممکن کوشش کے ساتھ دین کی خدمت کریں گے۔آئندہ بھی ہماری جماعت کے نو جوانوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے، کیونکہ ہمیں اب سلسلہ کی ضروریات کیلئے بہت سے نئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔اور یہ ضرورت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔اس وقت ہمیں ایسے نو جوان درکار ہیں جن کو ہم انگلستان، امریکہ اور دوسرے یورپین ممالک میں بھیج سکیں اسطرح افریقہ وغیرہ کے لئے ہمیں سینکڑوں آدمیوں کی ضرورت ہے۔اس کے بعد ان کی جگہ نئے آدمی بھیجنے اور انہیں واپس بلانے کیلئے ہمیں اور آدمیوں کی ضرورت ہوگی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا چلا جائیگا۔پس نو جوانوں کو چاہیے کہ وہ خدمت دین کیلئے آگے آئیں اور اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں بھی وقف کی تحریک کو مضبوط کریں۔ہمارے کاموں نے بہر حال بڑھنا ہے لیکن انہیں تکمیل تک اسی صورت میں پہنچایا جا سکتا ہے جب زیادہ سے زیادہ نو جوان خدمت دین کیلئے آگے آئیں۔ان نصائح کے ساتھ میں اپنی تقریر کو ختم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ