تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 765
تاریخ احمدیت 765 جلد ۲۰ کے حصہ میں آئی۔باقی لوگوں کو صرف چھلکا ہی ملا۔یہ تقسیم بالکل ویسی ہی تھی جیسے غزوہ حنین کے بعد رسول کریم اللہ نے مکہ والوں میں اموال غنیمت تقسیم کئے تو ایک انصاری نوجوان نے بیوقوفی سے یہ فقرہ کہہ دیا کہ خون تو ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال مکہ والوں کو دیدیا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ نے تمام انصار کو جمع کیا اور فرمایا اے انصار ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے ایک نو جوان نے یہ کہا ہے کہ خون تو ہماری صلى الله تلواروں سے ٹپک رہا ہے اور مال غنیمت محمد رسول اللہ اللہ نے مکہ والوں کو دیدیا ہے۔انصار نہایت مخلص اور فدائی انسان تھے رسول کریم کی یہ بات سن کر ان کی چیخیں نکل گئیں اور انہوں نے کہا۔یا رسول اللہ ہم ایسا نہیں کہتے ہم میں سے ایک بیوقوف نو جوان نے غلطی سے یہ بات کہہ دی ہے۔رسول کریم نے فرمایا اے انصار ! اگر تم چاہتے تو تم یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے فتح و کامرانی بخشی اور اسے عزت کے ساتھ اپنے وطن میں واپس لایا۔مگر جب جنگ ختم ہو گئی اور مکہ محمد رسول اللہ ﷺ کے قبضہ میں آ گیا تو مکہ والے تو بکریوں اور بھیڑوں کے گلے ہانک کر اپنے گھروں میں لے گئے اور انصار خدا کے رسول کو اپنے گھر میں لے آئے۔اس طرح بیشک صحابہ کے بعد آنیوالوں کو بڑی بڑی دولتیں ملیں۔حکومتوں پر انہیں قبضہ ملا۔مگر جو روحانی دولت صحابہ کے حصہ میں آئی وہ بعد میں آنیوالوں کو نہیں ملی۔پس خدمت دین کے اس اہم موقعہ کو جو تمہیں صدیوں کے بعد نصیب ہوا ہے ضائع مت کرو اور اپنے گھروں کو خدا تعالیٰ کی برکتوں سے بھر لو۔میں نے اپنی خلافت کے ابتدائی ایام میں جب کام شروع کیا تھا تو میرے ساتھ صرف چند ہی نو جوان رہ گئے تھے اور وہ لوگ جو اپنے آپ کو قابل اور ہوشیار سمجھتے تھے سب لا ہور چلے گئے تھے اور ہمارے متعلق خیال کرتے تھے کہ یہ کم علم اور نا تجربہ کار لوگ ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھو کہ وہی لوگ جن کو وہ نا تجربہ کار سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے انہی سے ایسا کام لیا کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔اس وقت میری عمر چھبیس سال تھی، میاں بشیر احمد صاحب کی عمر اکیس ساڑھے اکیس سال تھی۔اسی طرح ہمارے سارے آدمی ہیں اور تمہیں سال کے درمیان تھے مگر ہم سب نے کوشش کی اور محنت سے کام کیا تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم نے جماعت کے کام کو سنبھال لیا۔اسی طرح اب بھی نوجوانوں کو چاہیئے کہ وہ سلسلہ کی خدمت کا تہیہ کر لیں اور دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کریں اگر کسی نے صرف بی۔اے یا ایم۔اے کر لیا اور دینی تعلیم سے کو را رہا۔تو ہمیں اس کی دنیوی تعلیم کا کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔