تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 764
تاریخ احمدیت 764 جلد ۲۰ نہیں ہو سکتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ اپنے گھروں کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔بعض لوگ بھیڑوں بکریوں کے گلے کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں۔بعض لوگ گورنمنٹ کے خزانہ کا پہرہ دیتے ہوئے مارے جاتے ہیں اور بعض لوگ فوجوں میں بھرتی ہو کر اپنے ملک کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جاتے ہیں لیکن جو چیز اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کی ہے اس کے مقابلہ میں دنیا کی بادشاہتیں بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔۔۔بلکہ ان کو اس سے اتنی بھی نسبت نہیں جتنی ایک معمولی کنکر کو ہیرے سے ہوسکتی ہے۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اسلام اور احمدیت کی اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لو اور اس غرض کیلئے زیادہ سے زیادہ نو جوانوں کو خدمت دین کیلئے وقف کرو تا کہ ایک کے بعد دوسری نسل اور دوسری کے بعد تیسری نسل اس بوجھ کو اُٹھاتی چلی جائے اور قیامت تک اسلام کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہراتا رہے۔اس عظیم الشان مقصد کی سرانجام دہی کیلئے میں نے بیرونی ممالک کیلئے تحریک جدید اور اندرون ملک کیلئے صد را مجمن احمد یہ اور وقف جدید کے ادارے قائم کئے ہوئے ہیں۔دوستوں کو ان اداروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرنا چاہیئے اور نوجوانوں کو سلسلہ کی خدمت کیلئے آگے آنے کی تحریک کرنی چاہیئے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں سا دھوا اور بھکاری تک بھی اپنے ساتھی تلاش کر لیتے ہیں۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر تم اس عظیم الشان کام کیلئے دوسروں کو تحریک کرو تو تمہارا کوئی اثر نہ ہو۔اس وقت اسلام کی کشتی بھنور میں ہے اور اس کو سلامتی کے ساتھ کنارے تک پہنچانا ہمارا کام ہے۔اگر ہم اس کی اہمیت کو سمجھیں اور دوسروں کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں تو ہزاروں نوجوان خدمت دین کیلئے آگے آ سکتے ہیں۔ہمیں اس وقت ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے۔ہمیں گریجوایٹوں کی بھی ضرورت ہے اور کم تعلیم والوں کی بھی ضرروت ہے تا کہ ہم ہر طبقہ تک اسلام کی آواز پہنچا سکیں اگر تم اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھ لو گے۔تو یقیناً اس کشتی کو سلامتی کے ساتھ نکال کر لے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں ابدی حیات عطا فرمائے گا۔تمہارے بعد بڑے بڑے فلاسفر پیدا ہوں گے، بڑے بڑے علماء پیدا ہونگے، بڑے بڑے صوفیاء پیدا ہونگے بڑے بڑے بادشاہ آئیں گے۔مگر یا درکھو اللہ تعالیٰ نے جو شرف تمہیں عطا فرمایا ہے بعد میں آنیوالوں کو وہ میسر نہیں آ سکتا جیسے عالم اسلام میں بڑے بڑے بادشاہ گزرے ہیں مگر جو مرتبہ رسول کریم ﷺ کے ایک چھوٹے سے چھوٹے صحابی کو بھی ملا۔وہ ان بادشاہوں کو نصیب نہیں ہوا۔ان بادشاہوں اور نوجوانوں کو بیشک دنیوی دولت ملی مگر اصل چیز تو صحابہ ہی