تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 760 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 760

تاریخ احمدیت 760 ย جلد ۲۰ اگر زید اس جنگ میں شہید ہو جائیں تو جعفر بن ابی طالب کمانڈر ہونگے اور اگر جعفر بھی شہید ہو جا ئیں تو عبد اللہ بن رواحہ کما نڈر ہونگے۔اور اگر عبداللہ بن رواحہ بھی شہید ہو جائیں تو پھر مسلمان خود کسی کو منتخب کر کے اپنا افسر بنا لیں۔جب آپ یہ ہدایات دے رہے تھے تو اس وقت ایک یہودی بھی بیٹھا آپ کی باتیں سن رہا تھا۔آپ جب اپنی بات ختم کر چکے تو وہ یہودی وہاں سے اُٹھا اور سیدھا حضرت زیڈ کے پاس پہنچا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر محمد بچے نبی ہیں تو تم اس جنگ سے کبھی زندہ واپس نہیں آؤ گے۔کیونکہ انہوں نے کہا ہے کہ اگر زید جنگ میں مارے جائیں تو جعفر کو کمانڈر بنا لینا اور اگر جعفر بھی مارے جائیں تو عبد اللہ بن رواحہ کو کمانڈر بنا لینا اور اگر عبداللہ بن رواحہ بھی مارے جائیں تو پھر کسی اور کو اپنا افسر بنا لینا اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تم تینوں مارے جاؤ گے۔حضرت زید نے جواب دیا کہ ہم مارے جائیں یا زندہ رہیں محمد رسول اللہ ﷺ بہر حال بچے نبی ہیں۔آخر واقعہ بھی اسی طرح ہوا کہ جب لڑائی ہوئی تو یہ تینوں صحا بہ یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب وہ کمانڈر مقرر ہوئے تو انہوں نے اسلامی جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔اس وقت میدان جنگ کی یہ حالت تھی کہ دشمن کی تعداد ایک لاکھ کے قریب تھی اور مسلمان صرف تین ہزار تھے۔جب عبد اللہ بن رواحہ دشمن کے مقابلہ کیلئے آگے بڑھے تو لڑتے لڑتے ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیا۔اس پر انہوں نے جھٹ اپنے دوسرے ہاتھ میں جھنڈا تھام لیا۔اور جب دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا تو انہوں نے جھنڈے کو اپنی رانوں میں دبا لیا۔اس کے بعد کفار نے ان کی ایک ٹانگ بھی کاٹ دی۔اس وقت کیونکہ وہ مجبور تھے اور جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں وہ جھنڈے کو سنبھال کر رکھ سکتے۔اس لئے انہوں نے زور سے آواز دی کہ اب میں جھنڈے کو نہیں سنبھال سکتا اس لئے دیکھنا اسلام کا جھنڈا سرنگوں نہ ہونے پائے۔یہ سن کر حضرت خالد بن ولید آگے بڑھے اور انہوں نے جھنڈا اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔یہ لشکر ابھی مدینہ نہیں پہنچا تھا کہ رسول کریم کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ ان تمام واقعات کی خبر دیدی اور آپ نے صحابہ کو بتا یا کہ جب اسلامی لشکر کفار کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور زیڈ لڑتے لڑتے شہید ہو گئے تو زیڈ کی جگہ جعفر کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔اور جب جعفر شہید ہو گئے تو عبد اللہ بن رواحہ کو کمانڈر مقرر کیا گیا۔اور جب عبد اللہ بن رواحہ بھی شہید ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا کہ اب وہ جھنڈا سیف من سيوف اللہ یعنی حضرت خالد بن ولیڈ کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور وہ اسلامی لشکر کو حفاظت کے ساتھ