تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 756
جلد ۲۰ تاریخ احمدیت 756 سے بالکل مختلف رنگ رکھتا ہے۔آپ لوگ یہاں کسی نمائش کیلئے اکٹھے نہیں ہوئے۔کوئی کھیل یا تماشہ دیکھنے کیلئے نہیں آئے بلکہ صرف اس لئے جمع ہوئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ایک مناد کی آواز آپ لوگوں نے سنی اور اس پر دوڑتے اور لبیک کہتے ہوئے آپ زمین کے چاروں اطراف سے اس کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے۔گویا آپ لوگ وہ روحانی پرندے ہیں جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا تھا کہ انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں پر رکھ دو اور پھر انہیں آواز دو تو وہ تیری طرف تیزی کے ساتھ اڑتے چلے آئیں گے آپ لوگ بھی اس زمانہ کے مامور کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں جمع ہوئے ہیں۔اور آپ ہی وہ خوش قسمت وجود ہیں جنھیں فضائے آسمانی کی بلندیوں میں پرواز کر نے کیلئے پیدا کیا گیا ہے پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان ایام کو ضائع مت کرو۔یہ جلسہ کوئی دنیوی میلہ نہیں بلکہ یہ کو خدا اور اس کے رسول کے ساتھ تمہارا ملاپ پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جو بانی سلسلہ احمدیہ نے تمہارے لئے تجویز کیا ہے۔پس اس امر کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہ ہونے دو اور دعاؤں اور ذکر الہی میں ہر وقت مشغول رہو۔اور اپنے اوقات کا حج استعمال کرو۔اگر آپ لوگ اسلامی اجتماعات پر غور کریں تو آپ کو نہایت آسانی سے یہ امر معلوم ہوسکتا ہے کہ تمام اسلامی اجتماعات کی رُوح رواں صرف ذکر الہی اور دُعا اور انابت الی اللہ ہی ہے۔نماز ہے تو وہ دعا اور ذکر الہی پر مشتمل ہے۔جمعہ ہے تو وہ بھی وعظ ونصیحت اور دعا اور ذکر پر مشتمل ہے۔عیدین کی نماز میں ہیں تو ان میں بھی اٹھتے بیٹھتے ذکر الہی کی تاکید ہے۔یہی نسخہ ہے جو ہر اجتماع کو با برکت بناتا ہے پس اس نسخہ کو کبھی مت بھولو اور اپنے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کیلئے اور اسی طرح اسلام اور احمدیت کی ترقی کیلئے رات دن دعا ئیں کرتے رہو اور پھر یہ بھی دعا ئیں کرو کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم الشان مقصد کو جلد سے جلد پورا فرمائے جس کیلئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ ہمیں اپنی موت تک اسلام کے جھنڈے کو بلند رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے اور پھر ہماری اولاد در اولاد کو بھی یہ توفیق بخشے کہ وہ قیامت تک اس جھنڈے کو اونچا رکھتی چلی جائے یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام پھیل جائے۔احادیث میں آتا ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر ایک صحابی شدید زخمی ہوئے وہ نزع کی حالت میں تھے کہ ایک اور صحابی انکے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ اگر آپ نے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے نام کوئی پیغام دینا ہو تو مجھے دیدیں وہ کہنے لگے میرے عزیزوں کو میری طرف سے اسلام علیکم کہنا اور انہیں یہ پیغام دے دینا کہ جب تک ہم زندہ رہے ہم اپنی جانیں الی