تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 757 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 757

تاریخ احمدیت 757 جلد ۲۰ قربان کر کے محمد رسول ﷺ کی حفاظت کرتے رہے اب ہم اس دنیا سے جا رہے ہیں اور یہ امانت تمہارے سپرد کر رہے ہیں۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اپنی جانیں قربان کر دو مگر محمد رسول اللہ ﷺ پر کوئی آنچ نہ آنے دو۔آج محمد رسول اللہ علیہ اپنے جسد عصری کے ساتھ اس دنیا میں موجود نہیں مگر ان کا لایا ہوا دین آج بھی زندہ ہے۔اُن کا لایا ہوا قرآن آج بھی موجود ہے۔اور وہ دین ہم سے انہی قربانیوں کا مطالبہ کر رہا ہے جن قربانیوں کا صلى الله صحابہ سے مطالبہ کیا گیا تھا۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اپنی جانیں دیں مگر اسلام کے جھنڈے کو کبھی نیچا نہ ہونے دیں اور ہم اپنی اولاد در اولاد سے بھی یہ کہتے چلے جائیں کہ اپنی ذمہ داریوں کو مت بھولنا ورنہ خدا کے حضور تم جواب دہ ہو گے۔حقیقت یہ ہے کہ سلسلہ کی عظمت کو قائم رکھنا اور سلسلہ کی اشاعت میں حصہ لینا کسی ایک فرد کا کام نہیں بلکہ یہ نسلاً بعد نسل ایک لمبے زمانہ سے تعلق رکھنے والا کام ہے اسی وجہ سے میں نے جماعت کو توجہ دلا ئی تھی پنے اپنے خاندانوں میں سے کم سے کم ایک ایک فرد کو دین کیلئے وقف کرو تا کہ تمہارا خاندان اس نیکی سے محروم نہ رہے اور تم سب اس ثواب میں دائمی طور پر شریک ہو جاؤ۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جماعت نے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کی حالانکہ یہ ایک نہایت ہی ضروری امر ہے جس پر ہماری جماعتی اور مذہبی حیات کا انحصار ہے میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ صرف اپنے اندر ہی ایمان پیدا کر نیکی کوشش نہیں کرنی چاہیے بلکہ اگلی نسل کو بھی دین کا جاں نثار خادم بنانے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔دنیا میں کوئی شخص یہ پسند نہیں کر سکتا ہے وہ تو عالم بن جائے مگر اس کا بیٹا جاہل رہے یا وہ تو امیر بن جائے مگر اس کا لڑکا کنگال رہے۔پھر نہ معلوم لوگ اپنی اگلی نسل کو دین کے راستہ پر قائم رکھنے کیلئے کیوں مضطرب نہیں ہوتے اور کیوں وہ دیوانہ وار اس کیلئے جد و جہد نہیں کرتے۔یہ امر یا د رکھو کہ ہمارے سپر د خدا تعالیٰ نے ایک بہت بڑی امانت کی ہے اس زمانہ میں جبکہ ایمان ثریا پر جا چکا تھا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ پھر اسلام کو زندہ کیا اور اس نے آپ لوگوں کے ذریعہ اسے دنیا کے کناروں تک پہنچایا بلکہ اسے تمام ادیان پر غالب کرایا۔اب آپ لوگوں کا فرض ہے کہ اپنی اگلی نسل کو بھی اس امانت کا اہل بنا ئیں۔اور اس کے اندر دین سے شغف اور محبت پیدا کریں تا کہ وہ بھی نمازوں اور دعاؤں اور ذکر الہی کی پابند ہو اور دین کیلئے ہر قسم کی قربانیوں سے کام لینے والی ہو۔یہ کام ہم اپنے زور سے نہیں کر سکتے صرف خدا ہی ہے جو اصلاح نفس کے سامان پیدا کیا کرتا ہے۔پس اپنے لئے بھی دعا ئیں کرو اور اپنی