تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 755
تاریخ احمدیت فصل پنجم 755 جلد ۲۰ جلسہ سالانہ ربوہ اور حضرت مصلح موعود اس سال ۲۶ تا ۲۸ دسمبر جماعت احمدیہ کے سالانہ جلسہ کے موقعہ پر کے ایمان افروز خطابات ربوہ کی مبارک سر زمین میں احمدیت کے ۷۵ ہزار فدائیوں کا عظیم الشان اجتماع ہوا جو دعاؤں، ذکر الہی انابت الی اللہ ذوق وشوق اور ولولہ عشق کے ایمان افروز مناظر کا مرقع تھا اور اس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے علاوہ دنیا بھر کے متعد دممالک کے مخلصین جماعت نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔اس مقدس تقریب میں سیدنا محمود المصلح الموعود نے دو روح پرور خطابات ارشاد فرمائے :۔حضور نے اپنی افتتاحی تقریر میں فرمایا :۔۲۳ افتتاحی خطاب اللہ تعالیٰ کا بے انتہا شکر ہے کہ اس نے ہماری جماعت کے افراد کو ایک بار پھر اپنے ذکر کو بلند کرنے اور محمد رسول اللہ ﷺ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچانے کیلئے یہاں جمع ہونے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔ہم اللہ تعالیٰ کے اس عظیم الشان احسان کو دیکھتے ہوئے اس کے حضور جس قدر بھی سجدات شکر بجالائیں کم ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس اجتماع کو ہر لحاظ سے با برکت بنائے اور اس میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام مردوں اور عورتوں کو ان کے اخلاص اور محبت کی جزائے خیر عطا فرمائے اور انہیں اس امر کی توفیق بخشے کہ وہ اس جلسہ سے پوری طرح فائدہ اٹھا ئیں اور اپنے اندر ایک نیک اور پاک تبدیلی پیدا کریں تا کہ جب وہ واپس جائیں تو دنیا ان کے نیک عزائم اور اعلیٰ اخلاق اور اسلام کیلئے فدائیت اور جاں شاری کے جذبات کو دیکھ کر پکا راٹھے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو اس دنیا کیلئے حقیقی امن اور سلامتی کا موجب ہیں اور انکے دلوں میں بھی یہ تڑپ پیدا ہو جائے کہ وہ جماعت احمدیہ کے مرکز میں آئیں اور ان غلط فہمیوں کو دور کریں جو ہمارے متعلق ان میں پائی جاتی ہیں۔دوستوں کو ! یہ امر ا چھی طرح یا درکھنا چاہیئے کہ ہمارا یہ جلسہ تمام مر وجہ جلسوں اور اجتماعوں