تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 59 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 59

تاریخ احمدیت 59 59 جلد ۲۰ بالغ افراد کا ایک معتد بہ حصہ عملاً اصلاح و ارشاد کا کام شروع کر چکا ہوگا۔وباللہ التوفیق ۴۷ ناظم مال کا تقرر وقف جدید کی آسمانی تحریک کا دائرہ عمل روز بروز وسیع سے وسیع تر ہورہا تھا اس لئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس کے مالی امور کی ۴۸ نگہداشت ، ترقی اور استحکام کے لئے ۱۹۶۶ ء میں اس کے لئے ناظم مال کی منظوری عطا فرمائی اور اسی عہدہ کے لئے چوہدری عبدالسلام صاحب اختر ایم اے کو مقرر فرمایا۔آپ نے ۱۹۴۵ء میں زندگی وقف کی تھی اور مختلف اوقات میں آپ کو نائب ناظر تعلیم اور پرنسپل تعلیم الاسلام کالج گھٹیالیاں کی حیثیت سے جماعتی خدمات بجالانے کا شرف حاصل تھا۔ناظم مال وقف جدید کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد آپ نے پوری توجہ اور انہماک سے وقف جدید کی مالیات کو مستحکم کرنے میں وقف کر دی۔دفتر اطفال وقف جدید کا آغاز ۷ اکتوبر ۱۹۶۶ء سے دفتر اطفال وقف جدید کا آغاز ہوا جبکہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احمدی بچوں سے اپیل فرمائی کہ وہ اس آسمانی اور بابرکت تحریک میں پورے جوش وخروش سے حصہ لیں۔حضور نے فرمایا:- اس وقت حضرت مصلح موعود کو یہ نظر آرہا تھا کہ ضرورت۔۔اس بات کی ہے کہ ہر جماعت میں کم از کم ایک معلم ضرور بٹھا دیا جائے لیکن چونکہ حضور ایک لمبا عرصہ علیل رہے اور اس عرصہ میں جماعت حضور کے خطبات سے محروم رہی اور چونکہ جب تک بار بار جگایا نہ جاتا رہے انسان عادتاً کمزوری کی طرف مائل ہو جاتا ہے اس لئے وقف جدید کی اہمیت اور افادیت آہستہ آہستہ جماعت کے افراد کی نظروں سے اوجھل ہوتی چلی گئی اور اس تحریک کا وہ نتیجہ نہ نکلا جو میرے نزدیک نو سالوں میں نکلنا چاہئے تھا اور اس کی ذمہ داری ساری جماعت پر بحیثیت جماعت عائد ہوتی پس پہلی بات تو یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ واقفین اس تحریک میں شمولیت کے لئے اپنا نام پیش کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس طرف توجہ دے تو ہر سال پہلے سال کی نسبت دگنی تعداد میں واقف آسکتے ہیں۔پھر ہمیں کم از کم دو سوا دو لاکھ روپے کی ضرورت ہوگی۔اور اس ہے۔