تاریخ احمدیت (جلد 20)

by Other Authors

Page 741 of 879

تاریخ احمدیت (جلد 20) — Page 741

تاریخ احمدیت 741 جلد ۲۰ گیا جو جلسہ کے ان ایام کی سب سے بڑی بابرکت اور سب سے نمایاں خصوصیت تھی۔ہر احمدی اس یقین سے معمور تھا کہ یہ دعائیں اور مناجاتیں انشاء اللہ جلد یا بدیر ضر و ر ا پنا عظیم الشان اور ہمہ گیر اثر دکھلا کر رہیں گی۔نماز تہجد، نماز فجر اور درس کے بعد مقبرہ بہشتی جانے والی سڑک پر عاشقان احمدیت کا ایک تانتا لگ گیا۔یہ نظارہ قبل از تقسیم کے جلسہ سالانہ کی یا دکو تازہ کر رہا تھا۔احباب گروہ در گروہ اپنے آقا اور اپنے حبیب سید نا حضرت مسیح موعود کے مزار مقدس پر حاضر ہو رہے تھے۔اور بڑی رقت اور سوز کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھے۔مقبرہ بہشتی کے علاوہ دیگر مقامات مقدسہ مثلاً مسجد اقصیٰ، منارۃ المسیح اور دار حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی جلسہ کے اوقات کے علاوہ قریباً ہر وقت ہی زائرین کی آماجگاہ بنے رہے۔جیسا کہ ایک گذشتہ مضمون میں عرض کیا جا چکا ہے۔درویشان کرام نے نہایت اخلاص محنت اور جانفشانی کے ساتھ اہل قافلہ کی مہمان نوازی کا حق ادا کیا۔اور انہیں آرام و سہولت بہم پہنچانے کی اپنی طرف سے پوری کوشش کی جزاھم اللہ احسن الجزاء۔اجتماعی رنگ میں مہمانوں کے قیام کا حسب سابق امسال بھی مدرسہ احمدیہ اور اس کے بورڈنگ میں انتظام کیا گیا تھا۔کمروں کا ایک حصہ پاکستان سے جانے والے مہمانوں کیلئے اور ایک حصہ ہندوستان سے تشریف لانے والے احباب کیلئے مخصوص تھا جو دوست معہ اہل و عیال تشریف لائے ان کی رہائش کیلئے درویشوں کے مختلف مکانات کے علاوہ مرز اگل محمد صاحب مرحوم کے دیوان خانہ میں ( جہاں آج کل نصرت گرلز سکول ہے ) انتظام کیا گیا تھا۔قافلہ کے بہت سے ارکان اپنے اپنے عزیزوں اور دوستوں کے ہاں بھی ٹھہرے۔دار حضرت مسیح موعود کے ایک بڑے حصہ میں بھی مہمانوں کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا تا کہ احباب ان مبارک اور مقدس مقامات کی برکات سے زیادہ سے زیادہ متمتع ہوسکیں۔قافلہ کے قادیان جانے کی ایک اہم اور خاص غرض اس مقدس سا لا نہ جلسہ میں شرکت تھی۔جس کی بنیا د حضرت مسیح موعود نے رکھی۔جسے حضور نے ایک بہت بڑا نشانِ الہی قرار دیا۔اور جس کی روحانی برکات کو ہر احمدی محسوس کرتا ہے۔قادیان کا سالانہ جلسہ اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے یقیناً ایک منفرد اور نرالی شان رکھتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ روئے زمین کا ہر احمدی اس جلسہ میں شامل ہونے کی تڑپ اور تمنا رکھتا ہے۔اور جو احمدی اس میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔وہ یقیناً اپنے آپکو خوش قسمت تصور کرتے ہیں۔اس جلسہ میں شمولیت کیلئے پاکستان اور دیگر بیرونی ممالک کے علاوہ خود ہندوستان کے طول و